Sindh Environmental Protection Agency                                                                        
Environment Climate Change & Coastal Development
Department , Government of Sindh.
Home About Us RULES Press Release Downloads/Reports Gallery Contact Us
 
PRESS RELEASE
 
سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ماحولیاتی شعور بیدار کیا جائے

محکمہ ماحولیات کے افسران کو مشیر ماحولیات مرتضی وہاب کی ہدایت

عوام کی کثیر تعداد سوشل میڈیا استعمال کررہی ہے: مرتضی وہاب

 عوام تک رسائی کے اس اہم ذریعے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے: مشیر ماحولیات

محکمہ ماحولیات کا فیس بیک صفحہ www.facebook.com/eccandcdd فعال کیا جاچکا ہے

جس پر روزانہ ماحولیاتی شعور کی پوسٹس لگائی جارہی ہیں

 واٹس ایپ گروپس میں بھی ماحولیاتی آگہی بڑھانے کا مواد شئیر کیا جارہا ہے

معاشرے میں ماحولیاتی بہتری عوامی شراکت کے بغیر ممکن نہیں: مشیر ماحولیات

 آلودگی سے پاک ماحول کی اہمیت سے عوام کی واقفیت ضروری ہے: مرتضی وہاب

سوشل میڈیا پر ماحولیاتی شعور انگیزسرگرمیاں بڑھائی جائیں: مشیر ماحولیات

  عوام میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں: مرتضی وہاب

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ

 
 
3 out of 4 incinerators in city found malfunctioning  May affect humans, environment Municipal Commissioner called for personal hearing 

KARACHI: On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, a high-profile team of Sindh EPA (SEPA) has inspected four incinerators working on commercial basis at different areas of the city.
It was found during their inspection that out of them three were not functioning properly causing serious threat to human health and environment.

It may be pointed out that under Sindh Environmental Protection Act 2014, each industry/factory/manufacturing or processing entity and hospital - big, medium or small - either private, government or semi-government is bound to incinerate or neutralize its hazardous/harmful/infectious solid waste before disposing it off as conventional solid waste.

To abide by this provision of the referred act many  hospitals and industries subscribe the  incineration services which are being provided at a limited scale by both private and public sector on commercial basis. 
The team of SEPA headed by its DG Naeem Ahmed Mughal and associated by Additional DG Waqar Hussain Phulpoto found that both the incinerators of KMC at Mewah Shah were not working according to standard safety measures.
The chief of the private company which operates them M/s Astro Trek and Municipal Commissioner of KMC were directed on the spot to appear before DG SEPA on coming Thursday to explain their position on the subject matter.

The third incinerator being owned and operated by Geo Link Private Limited in eastern zone of Port Qasim was also found misfunctioning and not following necessary safety measures.

It was surprising to note that a huge amount of infectious waste was placed uncovered there without any precaution.
Strangely enough a few reputable hospitals of the city reportedly subscribe its incinerating services.
The SEPA team on the spot issued directives to improve their finctioning and asked its chief to report to DG SEPA without any delay with satisfactory compliance report.
On the flip side, the fourth incinerator owned and managed by M/s Global Environmental Laboratory in Korangi Industrial Area was found functioning properly. 
However its handler was also asked to further improve it for its smooth functioning without any problem in future. 
Spokesperson
Environment, Climate Change & Coastal Development Department
Government of Sindh[

کراچی:. وزیراعلی سندھ کے مشیر قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹرمرتضی وہاب کی ہدایات پر آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف زور و شور سے کارروائیاں جاری ہیں

اس ضمن میں عیسی نگری میں واقع شاہی انٹر پرائزز کو اپنا کام بند کرنے کا ماحولیاتی حکم نامہ جاری کردیا گیا

ڈی جی ای پی اے سندھ نعیم مغل کی جانب سے مذکورہ کمپنی کو ماحولیاتی منیجمنٹ پلان جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی

واضح رہے کہ کمپنی بادی النظر میں فضائی آلودگی پھیلانے کی مرتکب پائی گئی تھی

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
پریس ریلیز
جراثیم زدہ کچرے کو پاک کرنے کی چار میں سے تین بھٹیاں ناقص

انسانی صحت اور ماحول کو سنگین خطرہ
کے اہم سی میونسپل کمشنر کی سیپا کے دفتر طلبی
کراچی(اسٹاف رپورٹر):.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا) کی ایک اعلی رکنی ٹیم نے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم طبی اور صنعتی فضلہ تلف کرنے والی سائنسی بھٹیوں (انسنریٹرز)کا معائنہ کیا
معائنے کے دوران پتہ چلا کہ کراچی شہر کا ایسا طبی اور صنعتی فضلہ جو اس کے پیدا کنندگان ہسپتال اور صنعتیں وغیرہ ماحول دوست طریقے سے تجارتی بنیادوں پر تلف کراتے ہیں ایسی چار سائنسی بھٹیوں (انسنریٹرز) میں سے تین کی حالت اطمینان بخش نہیں تھی
واضح رہے کہ ضرررساں طبی اور صنعتی فضلے ناقص طریقے سے تلف کرنے پر ماحول اور انسانی صحت کو شدید خطرہ ہوتا ہے اس لیے سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014کے مطابق انہیں ماحول دوست طریقوں سے ٹھکانے لگانا لازمی ہے بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے

معائنے کے دوران میوہ شاہ میں لگی کے ایم سی کی دونوں بھٹیوں اور پورٹ قاسم میں جیو لنک پرائیویٹ لمیٹیڈ کی بھٹی کی کارکردگی غیر اطمینان بخش نظر آئی

غیر اطمینان بخش کارکردگی والی تینوں بھٹیوں کی انتظامیہ کو سیپا نوٹس دیگا اور انہیں اپنا طریقہ کار مجوزہ معیار کے مطابق بنانے کی ہدایت دی جائے گی بصورت دیگر ان کے خلاف سیپا قانونی کارروائی کا اختیار رکھتا ہے

کے ایم سی کی ناقص بھٹیوں کی وضاحت کے لیے انہیں چلانے والی نجی کمپنی بنام ایسٹرو ٹریک اور شہر کے میونسپل کمشنر کو اس جمعرات کو سیپا کے دفترطلب کرلیا گیا ہے
پورٹ قاسم کے مشرقی زون میں واقع جیو لنک کی بھٹی کے اطراف طبی فضلہ کھلے آسمان تلے پایا گیا جس کے نقصان دہ جراثیم اطراف میں پھیل سکتے ہیں
افسوسناک امر یہ ہے کہ شہر کے چند معروف ہسپتال اپنا طبی فضلہ جیو لنک کی سائنسی بھٹی سے تلف کراتے ہیں 
سیپا کی ٹیم نےجیو لنک کو موقع پر ہی اپنی بھٹی کا طریقہ کار فوری طور پر محفوظ بنانے کی ہدایات کردی ہے
جبکہ نجی کمپنی گلوبل انوائرنمنٹ لیب کی کورنگی صنعتی ایریا میں لگی (چوتھی) بھٹی(انسنریٹر) کی حالت اطمینان بخش دکھائی دی تاہم اسے بھی اپنے طریقہ کار میں مزید بہتری لانے کا کہہ دیا گیا ہے
ڈی جی سیپا نعیم مغل, ایڈیشنل ڈی جی وقار حسین پھلپوٹو اور ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول سمیت دیگر ٹیکنیکل افسران و اہلکار معائنہ کارٹیم میں شامل تھے

واضح رہے کہ ہسپتالوں سے نکلنے والا کچھ کچرہ تو عام گھروں سے نکلنے والے کوڑا کرکٹ کی طرح ہوتا ہے جبکہ مریضوں کے علاج معالجے میں استعمال ہونے والی اشیاء جراثیم زدہ ہوتی ہیں جو دوسرے لوگوں میں منتقل ہوکر انہیں بیمار کرسکتے ہیں اس لیے ایسے کچرے کو سائنسی بھٹیوں(انسنریٹرز) میں تلف کیا جاتا ہے تاکہ وہ مکمل طور پر جراثیم سے پاک ہوکر راکھ میں بدل جائیں اور انسانوں و ماحول کے لیے خطرہ نہ رہیں 

ترجمان
محکمہ ماحولیات موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ
کراچی(31 آکتوبر)سندھ حکومت کے ترجمان مشیر  قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے افسران کو قابل تلف پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کردی جمعرات کو سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی( سیپا ) کے افسران کے ساتھ ایک اجلاس کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ قابل تلف پلاسٹک بیگز فروخت کرنے والوں اور تیار کنندگان کے خلاف کارروائی کو مزید موثر بنایا جائے نان بائیو ڈی گریڈایبل پلاسٹک کی تھیلیاں ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہیں یکم اکتوبر سے ایسے پلاسٹک بیگز کے خلاف شروع کی جانے والے آپریشن کو عوام الناس کی جانب سے بھی سراہا گیا تھا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے سیپا حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں وفاقی اداروں کو بھی ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے اقدامات اُٹھائے جائیں، سیپا کے افسران نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب فیکٹریوں اور کارخانوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس کے عدم تعاون کا شکوہ کیا جس پر مشیر ماحولیات نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کرکے انہیں پولیس سیپا افسران سے تعاون کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب کارخانوں، پلاسٹک بیگز بنانے والے کارخانوں سمیت آلودگی کا باعث اداروں کے خلاف کارروائی کو تیز تر کیا جائیگا۔ اجلاس میں پام آئل کے درختوں سے پام آئل کشید کرنے کے لئے مشینری درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ محکمہ ماحولیات کے تحت ضلع ٹھٹھہ میں کاٹھور فاریسٹ کے مقام پر پام آئل کے درخت لگائے گئے ہیں جن سے پام آئل کی پیداوار کا آغاز ہوگیا ہے۔ مشینری درآمد کرنے کا مقصد نہ صرف پام آئل کی پیداوار کو بچانا ہے بلکہ اس سے ریونیو جنریٹ کرنا بھی ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری محکمہ ماحولیات خان محمد مہر، ڈی جی سیپا نعیم مغل، ایڈیشنل ڈی جی وقار پھلپوٹو سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
پریس ریلیز
آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے  8 کارخانوں کو کام بند کرنے کا حکم

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب اور سیکریٹری محکمہ  ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی خان محمد مہر کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (سیپا).نے سندھ بھر میں آلودگی پھیلانے والی اینٹ ساز فیکٹریوں کے خلاف مہم شروع کردی ہے
مذکورہ مہم کے تحت کئے گئے پہلے آپریشن میں عمرکوٹ اور اس کے گرد و نواح میں واقع آٹھ  اینٹ ساز فیکٹریوں کو اپنا کام بند کرنے کا ماحولیاتی حکمنامہ جاری کردیا گیا ہے جو سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014کی دفعہ اکیس کی ذیلی دفعہ دو کے حصہ الف کے تحت جاری کیا گیا ہے
حکم نامے میں مذکورہ فیکٹریوں سے کہا گیا ہے کہ زیر حوالہ ماحولیاتی قانون کی دفعہ چودہ کی خلاف ورزی پر انہیں اپنے امور فوری طور پر بند کرنے کے احکامات دئیے جارہے ہیں
 
مذکورہ تمام فیکٹریاں اپنے پیداواری عمل میں ناقص ایندھن بشمول پلاسٹک کا کچرہ, ربر کی بوتلیں اور کپڑوں کی چندیاں استعمال کررہی تھیں جن سے ضرر رساں فضائی آلودگی کی بھاری مقدار پیدا ہورہی تھی
آس پاس کے رہائشی پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے باعث عمل تنفس سے متعلقہ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے تھے
جن فیکٹریوں کو اپنا کام بند کرنے کا ماحولیاتی حکم نامہ جاری کیا گیا ان میں مقدر شاہ, ماروی, فوجی, سپر, جئے لطیف, درس, خان اور رانا راجپوت نام کی اینٹ ساز فیکٹریاں شامل ہیں 

مذکورہ حکمنامے کے اجراء سے پہلے سیپا میرپورخاص کے علاقائی دفتر کی ایک ٹیم نے زیر تذکرہ تمام فیکٹریوں کا دورہ کیا تھا اور ان کی ماحولیاتی خلاف ورزی کے مشاہدے کے بعد انہیں کام بند کرنے کے احکامات جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
 
ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی 
حکومت سندھ



SEPA monitors 22 hospitals in Sindh
KARACHI: Environmental Protection Agency, Government of Sindh under its drive to implement Hospital Waste Management Rules 2014 - which is an enforcement tool of Section 14((2) of Sindh Environmental Protection Act 2014 (SEP Act’14) - has monitored twenty two hospitals in a week’s time including of Karachi, Hyderabad, Mirpurkhas, Sukkur and Larkana Regions. 

Unfortunately out of them twenty one hospitals of both public and private sectors were found violating the referred Section of SEP Act’14. Consequently notices were served on a few of them while on others being issued to make them fully follow the HWM Rules 2014 which is mandatory to all hospitals  and medical care units working in Sindh. 

Hospitals are also being provided a performa to fill in and send it back to SEPA to record the amount of their infectious and non-infectious waste as well as to know their existing hospital waste management mechanism.
It may be mentioned here that on the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environmment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab and Secretary Environment, Climate Change and Coastal Development Department, Government of Sindh Khan Muhammad Mahar, Sindh EPA  started its drive to enforce the Section 14 (2) of SEP Act’14 and to implement HWM Rules of 2014 across the board on all private and public sector hospitals, health care units and all major and minor outlets providing medicare services throughout the province of Sindh. 
A week ago Barrister Murtuza Wahab while presiding over a meeting of all major government and priviate hospitals of Karachi held in Commissioner Karachi office had issued these directives to SEPA to launch the subject drive all over the Sindh since it was high time to initiate the referred action more particularly after spectacular success of implementation on ban on use, sale, purchase and manufacture of plastic bags in Sindh. 

He had asked the Additional Director General SEPA Waqar Hussain Phulpoto – who is also a focal person for HWM in Sindh - to immediately launch the subject drive under a well-planned strategy to first monitor the hospitals and check their level of compliance and then those found violating the HWM Rules may be issued notices for the ulltimate objective of getting them properly manage their hospital waste strictely as per subject rulles. 
Consequently after obtaining approval from DG SEPA Naeem Ahmed Mughal, ADG SEPA directed all Regional Offices of SEPA to start monitoring of hospitals and health care units under their jurisdiction and ensure their compliance by following the codal formalities and necessary standard operating procedures. 

As a result in a week’s time the team of SEPA Sukkur visited two hospitals i.e Sukkur Hospital a private entity and Government-run National Institute of Cardiovescular Diseases Sukkur and both of them were found not fully abiding by the referred rules. Subsequently notices are being served on them.

The inspection team of SEPA Larkana visited three hospitals in last week including Abbasi Medical Centre, Child Medical Centre and Mir Medical Centre. The notices of personal hearings are being served on them on violating the referred section of SEP Act’14 and HWM Rules 2014.
The team of Regional Office Mirpurkhas visited five hospitals which are Al-Shifa Hospital, Maria Medical Hospital, St Tressa Hospital, Al Noor Hospital and Ali Medicare Hospital and all of them found violating the concerned section of SEP Act’14 and HWM Rules. They are being issued notices for personal hearing before filing their complaints in the court of Judicail Magistrate. 

The team of SEPA Hyderabad monitored six hospitals which are Hajiani Hospital, Ghazi Hospital, Bin Tayyab Hospital, Asim Clinic Qsimabad, Asian Hospital, Ghani Hospital and notices were served on them as all of them were not satisfactorily implementing the concerned rules related to HWM. 

The team of SEPA Karachi monitored six hospitals from both private and publlic sectors including: Abbasi Shaheed Hospital, Civil Hospital, Agha Khan Hospital, Al-Mumtaz Medical Complex Malir Halt, Federal Hospital Water Pump and Nehal Hospital Malir Township. Except Agha Khan Hospital, rest of the five were not fully complying with HWM Rules 2014 and notces are being served on them to bring them under the ambit of compliance with the referred rules.
On issuance of first week’s progress report of monitoring of hospitals by SEPA, Advisor on Environment Barrister Murtuza Wahab expressed his satisfaction on the pace of monitoring by SEPA but equally expressed his grave concern on non-compliance of twenty one hospitals out of total twenty two monitored hospitals and said this trend must be reversed as the health and safety of people and protection of environment can never be compromised as this is the prime obligation of environment department of Sindh.
He advised the SEPA teams to keep monitoring the private and public sector hospitals of Sindh with full vigor and no any leniency may be granted to any unit or entity found involved in violating the SEP Act 2014. 

Spokesperson
Environment, Climate Change & Coastal Development Department
ای پی اے سندھ نے صوبے کے 22 ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کرلی

کراچی: ادار ہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (ای پی اے سندھ)نے سندھ بھر کے ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سندھ بھر کے بائیس چھوٹے بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کی گئی جن میں سے صرف کراچی کا ایک نجی ہسپتال(آغا خان ہسپتال) اپنا طبی فضلہ ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگاتے پایا گیا جبکہ بقیہ اکیس ہسپتال اپنا طبی فضلہ ٹھکانے لگانے کے حوالے سے سندھ کے تحفظ ماحول دو ہزار چودہ کی طبی فضلے سے متعلق دفعہ چودہ کی ذیلی دفعہ دو اور ہسپتالوں کے فضلے کے انتظام کے ضوابط سال دو ہزار چودہ کی خلاف ورزی کی مرتکب پائے گئے ۔

واضح رہے کہ وزیر اعلی سندھ کے مشیر ماحولیات برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب اور سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی خان محمد مہر نے گزشتہ سے پیوستہ ہفتے کمشنر کراچی کے دفتر میں کراچی کے اہم سرکاری و نجی ہسپتالوں کے نمائندوں کے اجلاس میں سندھ ای پی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو کو( جو سندھ میں ہسپتالوں کے طبی فضلے کے ماحول دوست انتظام کے فوکل پرسن بھی ہیں ) کو پورے صوبے کے ہسپتالوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی بلاتفریق ماحولیاتی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں ۔

جس کے نتیجے میں ای پی اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نعیم احمد مغل کی ہدایات پرادارے کے علاقائی دفاتر نے ایک ہفتے کے عرصے میں کل بائیس ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کی جن میں سکھر ریجن کے دو، لارکانہ کے تین، میرپورخاص کے پانچ اور حیدرآباد و کراچی کے چھ چھ نجی اور سرکاری ہسپتال شامل ہیں جن میں سے صرف ایک ہسپتال کے علاوہ تمام کے تمام اپنا طبی فضلہ ماحول دوست طریقے انسنریشن کے ذریعے ٹھکانے نہیں لگارہے تھے جس کی وجہ سے تمام ہسپتالوں کو نوٹسز دئیے جارہے ہیں اور ان سے پوچھا جارہا ہے کہ ان کے ہسپتال سے کتنا ضرر رساں اور کتنا غیر ضرر رساں طبی فضلہ نکلتا ہے اور وہ اسے کس طریقہ کار سے ٹھکانے لگاتے ہیں ۔

ای پی اے سندھ کی ہسپتالوں کی ہفتہ وار ماحولیاتی نگرانی رپورٹ پر مشیر ماحولیات مرتضی وہاب نے ادارے کی ماحولیاتی نگرانی کرنے کی کارکردگی پر تو اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نگرانی کئے گئے بائیس ہسپتالوں میں سے صرف ایک ہسپتال اپنا طبی فضلہ مجوزہ قواعد و ضوابط کے مطابق تلف کرتا پایا گیا ۔

انہوں نے ای پی اے سندھ کو ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی بلاتفریق جاری رکھنے کی تاکید کی اور کہا جو بھی ہسپتال ماحولیاتی قوانین اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا پایا جائے اس سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے کیونکہ لوگوں کی صحت اور ماحول کی حفاظت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے ۔

ماحولیاتی نگرانی کئے گئے میرپورخاص کے پانچ ہسپتالوں میں الشفاء ہاسپٹل، ماریہ میڈیکل ہاسپٹل، سینٹ ٹریسہ ہاسپٹل، النور ہاسپٹل اور علی میڈیکئیر ہاسپٹل، حیدرآباد کے چھ ہسپتالوں میں حاجیانی ہاسپٹل، غازی ہاسپٹل، بن طیب ہاسپٹل، عاصم کلینک قاسم آباد، ایشین ہاسپٹل اور غنی ہاسپٹل ، لاڑکانہ کے تین ہسپتالوں میں عباسی میڈیکل سینٹر، چائلڈ میڈیکل سینٹر اور میر میڈیکل سینٹر، سکھر کے دو ہسپتالوں میں سکھر ہاسپٹل اور قومی ادارہ برائے امراض قلب سکھر جبکہ کراچی کے چھ ہسپتالوں میں عباسی شہید ہسپتال، سول ہسپتال، آغا خان ہسپتال، الممتاز میڈیکل کمپلیکس ملیر ہالٹ، فیڈرل ہاسپٹل واٹر پمپ اور نہال ہاسپٹل ملیر ٹاءون شپ شامل ہیں ۔


ترجمان
محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ
پام آئل درختوں کا پائلٹ پروجیکٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مرتضیٰ وہاب 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے زیر انتظام ٹھٹھہ کاٹھور فاریسٹ میں قائم کیا گیا پام آئل کے درختوں کا پائلٹ پروجیکٹ حکومت سندھ کے انقلابی کارناموں میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ صوبائی مشیر نے ٹھٹھہ میں قائم اس پائلٹ پراجیکٹ کا دروہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پائلٹ پروجیکٹ میں ابتدائی سطح پر گیارہ سو پام آئل کے درخت لگائے گئے ہیں جن سے سالانہ بارہ سو من کے پام آئل کشید کیا جائے گا اور مقامی پیداوار سے بڑے پیمانہ پر قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ پچاس ایکڑ کے رقبہ پر محیط سرکاری اراضی پر لگائے گئے تمام درخت تیار ہوچکے ہیں اور ان سے پام آئل کی پیداوار کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مشیر ماحولیات نے پام آئل پراجیکٹ منصوبہ کی تیاری اور اس کو فعال کرنے والے محکمہ ماحولیات کے تمام افسران و عملہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد پام آئل منصوبہ کو بڑے پیمانہ پر وسعت دینے کے اقدامات کیئے جائیں گے ۔ مشیر ماحولیات کے دورہ کے موقع پر سیکریٹری ماحولیات خان محمد مہر اور ڈائریکٹر جنرل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسلم غوری، ڈپٹی ڈائریکٹر قاضی شہریار اور ظفر اجن سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی ہمراہ تھے۔


 کراچی(اسٹاف رپورٹر) ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ ( سیپا ) کی اتحاد ٹاون میں بڑی کارروائی،
 سیپا ٹیم نے ضلع غربی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں واقع غیر قانونی کارخانوں کے خلاف آپریشن کرکے کئی کارخانوں کو سربمہر کردیا کارخانے بیٹریاں پگھلا کر ان سے سیسہ نکالنے کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے آپریشن سیپا ضلع غربی کے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث علی گبول کی سربراہی میں کیا گیا جن کے ہمراہ انسپکٹر راؤ زیشان، فیصل ملک، زیشان علی کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری موجود تھی سندھ حکومت کے ترجمان مشیر  قانون ، ماحولیات اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایت پر کئے گئے آپریشن کے دوران سیپا ٹیم نے پولیس کی بھاری نفری کے تعاون سے بیٹریاں پگھلانے والے ایک درجن کے قریب غیر قانونی کارخانے سربمہر کردئیے ڈپٹی ڈائریکٹر سیپا ضلع غربی وارث علی گبول کے مطابق ان کارخانوں میں مختلف بیٹریاں پگھلا کر سیسہ نکالنے کا کام کیا جاتا تھا جس سے علاقے میں شدید قسم کی آلودگی پھیلتی تھی خطرناک آلودگی انسانی صحت کے لئے خطرے کا باعث بن رہی تھی ان کارخانوں میں کام کرنے والے افراد کی صحت سمیت ملحقہ آبادی شدید متاثر ہورہی تھی انہوں نے کے آیا کہ ان کارخانوں سے شدید قسم کا دھواں بھی نکلتا تھا انتہائی غیر سائنسی طریقے سے بیٹریاں پگھلا کر انسانی جانوں سے کھیلا جارہا تھا۔ مشیر ماحولیات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے اس ضمن میں سیپا حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی کارخانوں کے لئے کسی قسم کی  رعائت نہ برتی جائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے سیپا اہلکار ایسے کارخانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ کارخانے اطراف کی آبادی کے مکینوں کی صحت کو نقصان پہچانے کا باعث تھے۔ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائینگے

سیکریٹری ماحولیات کی زیر صدارت صنعتی و تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کا اجلاس

کراچی: صوبائی مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کی صنعتی آلودگی کی روک تھام کی شقوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات کی روشنی میں آج پیر کو  سیکریٹری محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی, حکومت سندھ خان محمد مہرکی زیر صدارت کراچی کی تمام صنعتی, تجارتی اور تعمیراتی انجمنوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا

اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات نے امید ظاہر کی کہ صنعتکار مذکورہ ایکٹ پر مکمل طور پر عمل کرنے میں کوئی تامل نہیں کریں گے

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحولیات کے نقطعہ نظر سے ممکنہ آسانیوں کی فراہمی اور ماحولیاتی ایکٹ پر بھرپور عملدرآمد کے حوالے سے صنعتی, تجارتی و تعمیراتی انجمنیں ایک جامع رپورٹ پیش کریں گی تاکہ صوبے میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر برق رفتاری کے ساتھ جاری رہیں


اجلاس میں کورنگی, لانڈھی, بن قاسم, نارتھ کراچی, فیڈرل بی ایریا, سائٹ اور سپر ہائی وے کے صنعتی علاقوں کی انجمنوں کے علاوہ ایف پی سی سی آئی, کے سی سی آئی اور آباد کے نمائندوں اور ای پی اے سندھ اور محکمہ ماحولیات کے افسران نے بھی شرکت کی

ڪراچي(رپورٽر) وزير اعليٰ سنڏ جي ماحوليات واري صلاحڪار بيريسٽر مرتضيٰ وھاب جي ھدايت تي سنڌ انوائرمينٽ پروٽيڪشن ايجنسي (سيپا) جي ٽيم سيپا جي ايڊيشنل ڊائريڪٽر وقار حسين ڦلپوٽو جي سربراھي ۾ آغا خان اسپتال جو دورو ڪيو ۽ اسپتال جي مختلف شعبن جي استعمال ٿيل شين جي گند ڪچري کي مخصوص جڳھ تي اڇلائڻ جي انتظامن جو جائزو ورتو. ان موقعي تي ٽيم ۾ سيپا پاران عمران نبي، محمد اظھر خان، شفيع الله لغاري ۽ ٻين شرڪت ڪئي. جڏھن تہ آغا خان اسپتال پاران ڪرنل (ر) عمر ۽ نويد شامل ھئا جن اسپتال ۾ صفائي ۽ ٻئي صورتحال بابت ٽيم کي بريف ڪيو. ان موقعي تي سيپا ٽيم جي سربراھ وقار حسين ڦلپوٽو چيو تہ آلودگي مان مختلف بيماريون جنم وٺن ٿيون ان سلسلي ۾ مختلف اسپتالن جا دورا ڪري رھيا آھيون. ھن چيو تہ جلد اسان جي ٽيم ٻين سرڪاري ۽ خانگي اسپتالن جا بہ دوارا ڪري انھن جو بہ جائزو وٺندي.

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے ہدایت پر سندھ انوائر منٹ پروٹیکشن ایجنسی ( سیپا) کی ٹیم نے آغا خان اسپتال کا دورہ کیا اور اسپتال کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق مشیر برائے ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سیپا کو مختلف اسپتالوں کا دورہ کر کے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے اس ضمن میں سیپا کے ایڈیشنل ڈائریکٹر وقار حسین پھلپھوٹو کی سربراہی میں ایک ٹیم نے جمعہ کو آغا خان اسپتال کا دورہ کیا ۔ ٹیم میں سیپا کے عمران نبی، محمد اظہر خان ، شفیع اللہ لغاری اور شعیب شامل تھے جبکہ آغاخان اسپتال کی جانب سے کرنل ( ر ) عمر اور نوید شامل تھے جنہوں نے اسپتال میں صفائی اور دیگر صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا۔ سیپا ٹیم نے اسپتال میں ایمرجنسی وارڈ ، جنرل وارڈ اور لانڈری کا دورہ کیا جس کے بعد سیپا ٹیم کے سربراہ وقار حسین پھلپھوٹو نے کہاکہ آلودگی سے مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں ،اس سلسلے میں مختلف اسپتالوں کادورہ کر رہے ہیں جلد ہماری ٹیم دیگر سرکاری و نجی اسپتالوں میں جاکر جائزہ لے گی۔


Today on date 18/10/19 the team of SEPA headed by additional director general Mr Waqar Hussain Phulpoto visited Aga Khan Hospital to inspect about the overall mechanism of hospital waste management existing there. At AKUH Colonel retd Umer and his team briefed in detail to the team of the environmental watchdog about the salient features of the hospital waste management system at AKUH. Deliberation has been carried out during the briefing on waste disposal, infectious liquid  disposal, hazardous fumes etc. Mr Naveed from AKUH described infectious waste flow in detail to the SEPA team. He also shed light on the overall waste management system at AKUH. He elaborated that at AKUH segregation is being carried out at generation point and as per SOP infectious waste is dumped in red colour plastic bag while the food waste is being dumped in blue colour plastic bag. Cytotoxic waste is being put into yellow bag, while the non hazardous litter is dumped in the green bag. He further briefed that around 4kg infectious waste is generated per bed. Colonel retd Umer also briefed about the waste management mechanism. He said that after segregation the infectious waste is being carried through designated yellow trollies and then is transferred to the storage areas/ refrigerators prior to being shifted to incinerator located in the premises of AKUH. He spoke about other modalities of waste management in detail too. Additional director general SEPA Mr Waqar Hussain Phulpoto inquired about incinerator process flow. He also raised a question about disposal of infectious bedsheets etc. After the briefing ADG Mr Phulpoto and the SEPA team visited the incinerator plant and oversaw the incineration process. Following this the team visited the emergency ward, general ward, laundry as well for the inspection process. During the inspection it was observed that at some places that the sharps were present in the green bags, while in red bags meant for infectious waste had general litter present. ADG and his team noted this anomaly. The team also inquired about the heat recovery at incinerator plant along with details of inventory meant for segregation purpose. And ADG particularly inquired about the EHS practices too. InIn this regard he directed that AKUH will present the last month list of stalk of expired medicines. Mr Phulpoto also said that SEPA will pay a surprise visit in future to review the continued processes. He also directed that AKUH should also provide details on emissions and noise generation produced at incit to SEPA. ADG underscored SEPA will not leave any stone unturned for the protection of natural environment and in this regard SEPA will soon visit other government and private hospitals to oversee the hospital waste management practices because it is a matter of common man.
.................................................

بہت جلد لوگ عوامی مقامات کا ماحول بہتر دیکھیں گے: مرتضی وہاب

کراچی:.سندھ کے عوامی مقامات بشمول نجی و سرکاری تعلیمی ادارے, نجی و سرکاری دفاتر, ریسٹورنٹس, ساحل سمندر, تفریحی پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی یقینی بنانے اور صحت دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے بھی حکومت سندھ کڑے مگر عوام دوست اقدامات لینے جارہی ہے

یہ بات وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحول, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی مرتضی وہاب نے محکمے کے اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی

مشیر ماحولیات مرتضی وہاب نے کہا کہ عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات نہ ہونے اور وہاں دن بہ دن بڑھتی ہوئی صحت شکن سرگرمیوں کی مستقل شکایات موصول ہورہی ہیں 

بہت سے والدین نے یہ بھی شکایت کی ہے ک ان کے اسکول و کالج جانے والے بچے مختلف تمباکو ملی اشیاء کھانے کے عادی ہوتے جارہے ہیں جبکہ بہت سے ہوٹلوں پر صحت دشمن اشیاء کی فراہمی کی شکایات بھی عام ہیں

مشیر ماحولیات نے کہا کہ جس طرح پلاسٹک بیگز پر پابندی کو لوگوں نے خوش آمدید کرتے ہوئے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا بالکل اسی طرح حکومت کو امید ہے کہ عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی یقینی بنانے اور وہاں صحت دشمن سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کو بھی زبردست عوامی پذیرائی حاصل ہوگی

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ابتدائی ہوم ورک جاری ہے اور بہت جلد اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت سخت اقدامات لیے جائیں گے تاکہ سندھ کے عوامی مقامات کا مجموعی ماحول بہتر ہو اور وہاں مثبت اور صحتمند سرگرمیاں فروغ پاسکیں

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ

Advisor vows to improve environment of public places

KARACHI: Strict measures will soon be taken to ensure cleanliness and to control unhealthy activites at public places including government and private educational institutions, offices, restaurants, beaches, recreational parks and other such places.

This was stated by Advisor to CM Sindh on Environment, Climate Change and Coastal Development Department, Government of Sindh Barrister Murtuza Wahab while presiding over a meeting of high officials of Sindh EPA. 

Secretary Environment, Climate Change and Coastal Development Department Government of Sindh Khan Muhammad Mahar first briefed the meeting on steps which will be taken to improve the environment of public places.

Advisor said on this occasion that a lot of complaints are being received against degrading environment and lack of cleanliness at public places.

He said many parents have also expressed their concern on their school and college going children's addiction in various tobacco mixed chewing products while complaints of sale of unhealthy products in restaurants is also common.

He expressed hope that people will support and cooperate with the government to improve the environment of public places just like they did to implement the ban on plastic shopping bags.

He informed the meeting that a comprehensive strategy is being devised to take bold steps to promote positive activities at public spots and to improve their environmental conditions.

Spokesperson
Environment, Climate Change & Coastal Development Department, Government of Sindh
[10/21, 6:58 AM] Mujtaba Baig EPA: مورخہ 19 اکتوبر 2019

پریس ریلیز

سیپا کی خصوصی ٹیم کا آغا خان ہسپتال کا دورہ

کراچی:. وزیر اعلی سندھ کےمشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب اور سیکریٹری محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ خان محمد مہر کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا).کی ایک خصوصی ٹیم نے ایڈیشنل ڈی جی وقار حسین پھلپوٹو کی قیادت میں آغا خان ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں کے مختلف شعبہ جات کے ماحولیاتی پہلووں کا جائزہ لیا.

سیپا کی ٹیم نے خاص طور پر ہسپتال کے طبی فضلے کے آغاز سے لے کر اس کے ماحول دوست انجام تک کے تمام مراحل کا بغور معائنہ کیا اور عمومی ٹھوس فضلے سے ضرر رساں ٹھوس فضلے اور استعمال شدہ تیز دھار و نوکیلے طبی آلات و اشیاء کو علیحدہ کرنے کے طریقہ کارکے ساتھ ساتھ ضرر رساں طبی فضلے کو سائنسی بھٹی میں ماحول دوست طریقے سے تلف کرنے کے عمل کے بھی ماحولیاتی پہلووں کو پرکھا

سیپا کی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹرز اظہر خان و شفیع اللہ لغاری اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز عمران نبی و شعیب شامل تھے جبکہ آغا خان ہسپتال کی جانب سے کرنل (ر).عمر اور نوید نے ٹیم کو ہسپتال کا دورہ کرایا

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مشیر ماحولیات اور سیکریٹری ماحولیات کی جانب سے کراچی کے نجی و سرکاری ہسپتالوں کے کمشنر کراچی کے دفتر میں بلائے گئے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کراچی کے تمام ہسپتال اس بات کی یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کا طبی فضلہ 2014 کے ہسپتالوں کے فضلے کے ماحول دوست انتظام کے حوالے سے جاری شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق ٹھکانے لگایا جارہا ہے 

اس ضمن میں سیپا کی جانب سے آنے والے دنوں میں سرکاری و نجی ہسپتالوں کو ذاتی شنوائی کے نوٹسز جاری کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے طبی فضلے کے ماحولیاتی طور پر اطمینان بخش بندوبست کے حوالے سے سیپا کو آگاہ کرسکیں

یہی عمل سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی دہرایا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام ہسپتالوں کے طبی فضلے کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہیں اور قدرتی ماحول بھی اس کے مضر اثرات سے پاک رہے

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ
 


سیپا نے آلودگی پھیلانے والی ری سائیکلنگ فیکٹری بند کرادی

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی مرتضی وہاب اور سیکریٹری محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی, حکومت سندھ خان محمد مہر کی ہدایات پر ادرہ تحفظ ماحولیات سندھ نے گزشتہ رات مقامی پولیس کی مدد سے ضلع ٹھٹھہ کے قصبے دھابیجی میں واقع شدید آلودگی پھیلانے والی فیکٹری بند کرادی

ایڈیشنل ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو آپریشن کی براہ راست نگرانی کررہے تھے

مذکورہ فیکٹری استعمال شدہ دھاتی اشیاء کی نقصان دہ قدیمی طریقوں سے ری سائکلنگ کرتی تھی

ماحول دشمن طریقہ کار اپنانے کے باعث ری سائیکلنگ سے سنگین فضائی آلودگی پھیل رہی تھی جس کی وجہ سے آس پاس کے رہائشی تنفس, اعصابی اور جلدی امراض کا شکار ہوسکتے تھے

دریں اثناء مشیر ماحولیات مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف یونہی کارروائی جاری رہے گی

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ
SEPA team stops operations of a polluting factory of recycling 

KARACHI:.On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab and Secretary Environment, Climate Change & Coastal Development Department, Government of Sindh Khan Muhammad Mahar, a team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) has stopped operations of a polluting factory situated at Dhabeji a small town of District Thatta.

Waqar Hussain Phulpoto Additional Director General of SEPA was overseeing the action against the referred factory.

The factory was found recycling used metal items through harmful methods and polluting the surrounding areas. People living around the factory could have suffered from respiratory, skin and nerves-related diseases owing to its air emissions.

 Meanwhile, Advisor on Environment Murtuza Wahab reaffirmed the pledge of Sindh Government of continuing similar actions against those found polluting the natural environment of Sindh.

Committee formed to set standards for pre-treatment plant for industrial effluent

KARACHI:.Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab has directed industries of Karachi to take swift measures -.devoid of any ifs and buts - to treat their effluent before releasing it into the sea.

He was chairing a meeting of representatives of Korangi Association of Trade & Industry; Bin Qasim Association of Trade and Industry; Federal B Area Association of Trade and Industry; North Karachi Association of Trade & Industry; Landhi Association of Trade & Industry; Site Association of Trade & Industry; and Super Highway Association of Trade & Industry on Wednesday here which was also attended by Secretary Environment, Climate Change & Coastal Development Department, Government of Sindh Khan Muhammad Mahar, MD KWSB Atharullah Khan, DG Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) Naeem Mughal, ADG SEPA Waqar Phulpoto and high officials of SEPA.

Advisor said that time of deliberations for the sake of deliberations is over and we need to move towards the best possible solution before its too late.

He further said that be it through a Combined Effluent Treatment Plant (CETP), effluent treatment plant, pre-treatment plant or sceptic tank; our concern is that each and every  industry must treat its effluent before releasing it into the sea.

"Nobody is above the law and when it means environmental law then the only way-out is to fully comply with it if we really want to get rid of the menace of all types of pollution", he remarked.

He accepted the proposal of industrial associations to make standards for pre-treatment plant for industrial effluent comprising of a representative from each industrial association of Karachi, KWSB, SEPA and a few certified environmental experts.

The proposed committee was given one week's time to develop standards for the pre-treatment plant which will individually be installed by each industry before releasing its effluent into the Combined Effluent Treatment Plant for final treatment prior to letting it flow into the sea.

Advisor said that meanwhile efforts shall be expedited to initiate action for the installation of CETP with the collaboration and support of federal government and industrial associations so that the process of industrial effluent management may be completed in
Hospitals must incinerate their medical waste to avoid legal action: Murtuza Wahab
KARACHI: The Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Department (ECC&CDD) Barrister Murtuza Wahab directed all private and government hospitals of Karachi to immediately submit their Hospital Waste Management (HWM) Plan to Sindh Environmental Protection Agency Government of Sindh (SEPA) in accordance with the Hospital Waste Management Rules 2014.

He was chairing a meeting held today (Tuesday) in the office of the Commissioner Karachi which was attended by Secretary, ECC&CDD, Government of Sindh Khan Muhammad Mahar, Director General of SEPA Naeem Ahmed Mughal, Additional Director General SEPA Waqar Hussain Phulpoto and representatives of all major private and government hospitals of Karachi.

In his opening remarks he regretted that hospital waste being generated in the city is being disposed off haphazardly without complying with HWM Rules 2014.

He further said that Sindh Government is very serious on the subject issue and will never allow any government or private hospital to continue the same practice.

He also took serious notice of the absence of representatives of a few major private and government hospitals in the meeting and expressed his displeasure on those who attended the meeting without any prior homework.

It was also decided in the meeting that Karachi Metropolitan Corporation shall share the previous three years record of hospital waste which was disposed off at their incinerators and also copy of outsource agreement made with 3rd party and handling of total hospital waste. KMC shall also provide list of hospitals which are utilizing the services of KMC incinerators for disposal of their medical waste.

Cantonment Boards of the city were also directed in the meeting to chalk out their policy framework for hospital waste and depute efficient officer to inspect the hospitals coming in their jurisdiction for their regular monitoring as most of the waste is found at the beaches which come in their jurisdiction.

Advisor on Environment directed the Additional Director General SEPA Waqar Hussain Phulpoto who is also focal person on HWM in Sindh to issue notices to both private and public hospitals for hearing of disposal of medical solid waste from Monday regularly inviting each of hospital and getting their modus operandi of the same. The Sindh Health Commission shall also submit detailed list of hospitals to SEPA for issuance of notices as decided in the meeting, for personal hearing to each public and private hospital.

It was also decided in the meeting that Deputy Commissioners concerned shall furnish reports regarding segregation and disposal of medical waste of hospitals coming in their jurisdiction.

Spokesperson
Environment, Climate Change & Coastal Development Department
Government of Sindh
Advisor, Secretary Environment lambast CBC on violating SEP Act 2014.     [see photos]

KARACHI:.Advisor to CM Sindh on Law and Environment, Climate Change and Coastal Development Department (ECC & CDD).and Secretary ECC & CDD, Government of Sindh have taken serious notice of littering of garbage at the beach and release of untreated civic wastewater into the sea at Clifton beach.

Calling it a flagrant violation of Sindh Environmental Protection Act 2014, they said that flowing of untreated civic wastewater directly into the sea at Clifton beach ranging from Village Restaurant to Sahil Avenue and from Emaar to Do Darya is a candid evidence of the apathy and callousness of concerned civic authorities.

They warned the concerned authorities to take immediate action for controlling the unabated polluting of Clifton beach and sea  since a compromise on the environmental safety of our precious natural resources can never be tolerated at any cost.

They said that the referred area is under the jurisdictional control of Cantonment Board Clifton (CBC). However prima facie CBC failed to act upon the clear-cut directives of
Sindh Water Commission (SWC) - which was formed by the Honourable Supreme Court of Pakistan.

In recent past, SWC had issued directives to all civic agencies to must instal effluent treatment plants and dispose of only treated wastewater into the water bodies of Sindh.

It was also a directive of SWC for adopting a fool-proof solid waste management system at and around the beach to provide public a pollution-free picnic resort. 

"However, it is deplorable to note that no action so far seems to be taken in this regard by CBC", they regretted.
They further said that since the managerial control of  Karachi coast is divided among four authorities, i.e KPT, KMC, CBC, and PQA. Therefore, they all are bound to follow environmental regulations in letter and spirit and avoid releasing any kind of effluent or waste into the sea without their proper treatment.

Otherwise, they warned, ECC & CDD will step in with its legal authority to initiate across-the-board legal action against those found polluting the beach and the sea by violating the SEP Act 2014.

However, they clarified, initially to get the things done amicably, all concerned agencies responsible for the management of Clifton beach will be asked to efficiently perform their bounden duties with regard to control of pollution at the beach and  see. 

"In case of their failure to comply with our instructions, initiation of across-the-board legal action against violators will be the eventual option for the greater cause of clean and green coastal environment", they concluded.
 

عالمی یوم مسکن
(World Habitat Day)
7th October 2019
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج یعنی 7 اکتوبر بروز پیر کوعالمی یوم مسکن (World Habitat Day) ہے

اقوام متحدہ کے بینر تلے ساری دنیا میں ہر سال اکتوبر کے پہلے پیر کو عالمی یوم مسکن(ورلڈ ہیبیٹیٹ ڈے) منایا جاتا ہے

اس دن کو منانے کا مقصد شہروں اور دیہاتوں کو پائیدار بنانے کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے

اور یہ بھی بتانا کہ مناسب اور پائیدار رہائش ہر انسان کا بنیادی حق ہے
اس دن کو مناکر لوگوں کو شہروں اور دیہاتوں کو پائیدار (sustainable) بنانے کی ترغیب بھی دینا ہے
اس سال یوم مسکن کی تھیم " کچرے کو دولت میں بدلنے کے لیے پائیدارٹیکنالوجی ایک جدید طریقہ ہے" رکھی گئی ہے

گزشتہ سال اس دن کی تھیم "بلدیاتی کچرے کو ٹھکانے لگانا" تھی 

اس سال کی تھیم کا مقصد لوگوں کو کوڑا کرکٹ ماحول دوست طریقوں سے ٹھکانے لگانے میں پائیدار ٹیکنالوجی کی اہمیت کے بارے میں بتانا ہے
واضح رہے کہ کوڑا کرکٹ کے ماحول دوست انتظام و انصرام کے تین پسندیدہ روایتی طریقے ہیں 

پہلا روایتی طریقہ استعمال شدہ اشیاء کو مزید مقاصد کے لیے جس قدر استعمال کیا جاسکتا ہو انہیں استعمال کرنا ہے اس طریقے کو Reuse یعنی اشیاء کو دوبارہ استعمال کرنا کہتے ہیں 

دوسرے روایتی طریقے میں کم سے کم کچرا پیدا کرنے کی تاکید کی جاتی ہے مثال کے طور پر کاغذ کے دونوں جانب لکھ کر کم کاغذ ضائع کرنا, وضو کے پانی سے پودوں کی آبیاری کرنا وغیرہ اس طریقے کو Reduceیعنی کچرہ کم سے کم پیدا کرنا کہتے ہیں
تیسرا اور موثر روایتی طریقہ اشیاء کو پروسیس کرکے کسی اور مقصد کے لیے دوبارہ قابل استعمال بنانا ہے مثال کے طور پر نفاست بھرےپلاسٹک کی اشیاء پگھلا کر ان سے کچھ اور اقسام کی پلاسٹک کی اشیاء بنانا, استعمال شدہ کپڑوں سے سودا سلف لانے لیجانے کے تھیلے بنانا وغیرہ شامل ہیں اس طریقے کو Recyclingیعنی اعادہ استعمال کہتے ہیں
کچرے کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کا رائج طریقہ لینڈ فل سائٹ میں کچرہ ڈالنا ہے تاہم اس سے زمین کا وہ حصہ جہاں لینڈ فل سائٹ واقع ہو وہاں کی زرخیزی کچھ حد تک متاثر ہوتی ہے

ضرر رساں کچرے (ہسپتالوں اور صنعتوں کا مخصوص کچرہ).کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کا رائج طریقہ اسے سائنسی بھٹی (انسنیریٹر). میں جلادینا ہے
 جبکہ ہسپتالوں کے ضرر رساں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا ایک اور رائج طریقہ آٹو کلیو ہے جس میں کچرے کو ایک مخصوص درجہ حرارت دے کر اس کے ضرر رساں اجزاء کو ناکارہ (نیوٹرل) بنادیا جاتا ہے
المیہ یہ ہے کہ کچرے کو درج بالا تینوں طریقوں (لینڈ فل, انسنریشن اور آٹو کلیو).سے ٹھکانے تو لگایا جارہا ہے مگر کلی طور پر یہ ماحول دوست نہیں ہیں لینڈ فلنگ سے کسی حد تک زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے, انسنریٹر سے دھواں نکلتا ہے اور آٹوکلیو میں توانائی کا زیاں ہوتا ہے

تاہم پائیدارٹیکنالوجی کے آنے کے بعد کچرے کے ماحول دوست بندوبست کے کئی جدید طریقے متعارف کرائے گئے ہیں جن میں سر فہرست کچرے سے بجلی بنانا ہے

 جی ہاں کچرے کو سائنسی عمل سے گزار کر اس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے ترقی یافتہ دنیا میں اس طریقے پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے جبکہ کم ترقی یافتہ اور پسماندہ دنیا میں اس طریقے کو اب تک استعمال نہیں کیا گیا ہے

 سب سے اہم بات یہ کہ اس کے استعمال سے دو گھمبیرمسائل یعنی کچرے میں اضافےاور توانائی کی قلت دونوں بیک وقت حل ہوسکتے ہیں 

اس کے علاوہ پائیدارٹیکنالوجی کے استعمال سے شہروں اور دیہاتوں میں طرز زندگی بڑی حد تک بہتر ہوسکتا ہے اور ہم پائیدار رہائش اختیار کرسکتے ہیں جس سے ماحول کو کم سے کم نقصان ہو اور ہماری زندگی بھی جدید تقاضوں کے مطابق رہے

مثال کے طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال سے ہمارے فضائی ماحول میں آلودگی نہیں بڑھے گی

توانائی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے سے ہمارے تیزی سے کم ہوتے قدرتی وسائل کا زیاں کم ہوگا
قابل تلف یعنی بائیو ڈیگریڈبل اشیاء استعمال کرنے سے زمین پر کچرے کا بوجھ کم ہوگا جس سے زمین کی زرخیزی کم متاثر ہوگی اور ہماری زرعی پیداوار بڑھے گی
پس تمام اقوام عالم بشمول پاکستان کو چاہئیے کہ کچرے کے ماحول دوست انتظام و انصرام کے لیے پائیدار ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کریں تاکہ ہماری دنیا پائیدار بنے اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کو صاف ستھرے ماحول کے ساتھ ایک ترقی یافتہ دنیا دے سکیں

محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی
حکومت سندھ

کراچی ( 27ستمبر )وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ماحولیات و قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی  ( سیپا ) نے کارروائی کرتے ہوئے کیماڑی کے علاقے میں فضائی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کو سربمہر کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق علاقہ مکینوں نے شکایت کی تھی کہ مذکورہ فیکٹری میں غیر قانونی طریقہ سے کوئلہ جلا کر خام لوہا تیار کیا جارہا تھا اور یہ فیکٹری فضائی آلودگی پھیلا رہی تھی فیکٹری میں کھلے عام کوئلہ جلا کر خام لوہا تیار کیا جارہا تھا جس سے علاقہ میں خطرناک گرد و غبار بڑھ رہا تھا اور امراضِ چشم ، جلدی بیماریاں ، سانس اور جگر کی بیماریاں بڑھنے سے افراد بالخصوص بچے ان کا شکار ہو رہے تھے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سیپا وارث علی گبول کی سربراہی میں مزکورہ فیکٹری پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی اور فیکٹری کو سیل کردیا گیا ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول نے بتایا کہ یہ فیکٹری غیر ملکی باشندے چلا رہے تھے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے فیکٹری میں ماحولیاتی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی تھی سیپا کی ٹیم میں ایڈیشنل ڈی جی وقار پھلپوٹو، انسپکٹر راؤ زیشان، فیصل ملک اور دیگر موجود تھے۔ مشیر ماحولیات نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے سیپا کی ٹیم کو شاباش دی ہے اور کہا ہے کہ ہر فیکٹری کو ماحولیاتی قوانین پر عمل کرنا ہوگا اس ضمن میں صنعت کاروں کو بھی تعاون کرنا ہوگا تاکہ ہم سب مل جل کر ماحول کو بہتر بنا سکیں۔ علاوہ ازیں علاقہ مکینوں نے سیپا کی ٹیم کی جانب سے کارروئی پر تشکر کا اظہار کیا ہے۔

کراچی ( 20 ستمبر ) وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ماحولیات و قانون اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب محکمہ ماحولیات اور ٹریفک پولیس کے باہمی تعاون سے فضائی آلودگی کے خلاف مہم کا افتتاح کیا ۔ صوبائی مشیر نے میٹرو پول ہوٹل کے قریب قائم کیئے گئے چیک پوائنٹ پر اس مہم کا افتتاح کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنی گاڑی جو چیک کرایا اور اپنی گاڑی پر سبز اسٹیکر آویزاں کیا۔ اس موقع پر محکمہ ماحولیات کے افسران اور ٹریفک پولیس کے افسران بھی موجود تھے ۔ محکمہ ماحولیات کی چیکنگ ٹیم نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو چیک کیا اور مالکان پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے چالان کیئے اور گاڑیوں ہر سرخ اسٹیکر چسپاں کیئے ۔ صوبائی مشیر  نے کہا کہ فضائی آلودگی کے خلاف یہ آگاہی مہم ہے اور اس طرح کی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں اس مہم کا آغاز کراچی ضلع جنوبی سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی کے خلاف مہم میں عوام اور میڈیا کے تعاون کی ضرورت ہے محکمہ ماحولیات صوبہ بھر میں شجر کاری مہم بھی چلا رہا ہے مزید براں محکمہ ماحولیات نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی ہے اس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا ۔ صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا اب ہم نے اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے اور ماحول کو خوبصورت بنانا ہے
Chapters on environmental protection to be included in school textbooks  Published in The News  7th September
 
 Karachi, today on 21/8/19 a consultative meeting of commission on air and water pollution was held at Secretary Environment Climate Change and Coastal development department Sindh, representatives of Punjab,  of Ministry of Climate change & Pak EPA,Azad Jammu Kashmir EPA D.G , Balochistan environment departments attended it along with representatives of Pakistan brick kiln association and others,Advisor to CM  on  Environment climate change and coastal development department Mr Murtaza Wahab chaired the meeting , at the beginning chairman commission and air and water pollution Dr Pervez Hussain gave an orientation regarding different aspects of the work done by the commission, discussion on brick kilns, environmental quality standards , sea  erosion and other environmental issues were discussed, Minister for Environment climate change and coastal development Mr Murtaza Wahab said that government of Sindh is determined  to protect the natural environment. He elobarated that Sindh government will be very responsive to proceed whatever decisions will be taken by the commission, however he further urged the commission to undertake the deliberation in its suggestions which will bound the federal government to facilitate provencial governments in terms of financial support, he also underscored that pragmatic approach should be adopted while making suggestions on environmental care by all means as he said without a holistic approach desired results will never be accomplished as every province has different environmental challenges, secretary environment climate change costal development Mr Khan Muhammad Mehar , director general SEPA Mr Naeem Mughal and others also agreed that a practical approach is needed to tackle environmental issues. For instance, it was decided that environmental quality standards needs to be addressed sector-wise with due time for its implementation. Chairman commission also informed that the  commission is working with state Bank of Pakistan, and other financial institutions to facilitate brick kiln owners to borrow money so that they can adopt environment friendly technology i.e zigzag technology. It was also decided that for uniform and pragmatic environmental quality standards, work will be done. At the end Mr Murtaza Wahab assured that all the suggestions of the commission will be taken into cabinet meeting so that after their finalization , they can be executed in letter and spirit.

Sindh govt imposes ban on plastic bags, urges people to start using cloth bags

KARACHI: The Sindh government on Thursday announced a ban on plastic bags across the province in a third such move taken to protect the environment, which, unfortunately, had never met any success in earlier attempts.

This time the announcement came amidst much media fanfare and huge claims at a press conference addressed by Barrister Murtaza Wahab, spokesperson for the government of Sindh, who also holds the portfolio of CM’s adviser for environment and climate change. Mr Wahab said the recent ban was different from the past ones as it was imposed across the province.

Before making it effective, he said, the provincial government would run a massive campaign to convince consumers as well as traders about the benefits of such a step.

The decision to take effect from Oct 1

“The Sindh government will be enforcing a complete ban on plastic bags throughout the province with effect from October 1,” he said. “The decision has been taken by the provincial environment department. The provincial government has simultaneously kicked off an awareness campaign about the harms of using plastic bags and in connection with this drive, cloth-made bags have been distributed among people of Karachi to encourage their use.”

The move from the Sindh government came days after the Adviser to the Prime Minister on Climate Change Malik Amin Aslam had told senators attending the meeting of the Standing Committee on Climate Change that using polythene bags would be banned in Islamabad from Aug 14 and the provinces would be informed of the policy so they could legislate for themselves in this regard.

The provincial government spokesperson said that the previous bans had never been imposed across the province.

Secondly, Barrister Wahab added that the provincial government would use the gap between today’s announcement and date of implementation to convince the people about the use of bags other than of plastic and polythene.

“We have more than 50 days in which we would campaign to make this ban effective,” he said. “We would reach out to people in every city and district to make our point. It’s in everyone’s interest and we firmly believe that the people will appreciate the government move and play their role to protect our environment. We have to move now before it’s too late.”

He said the Sindh government on one hand was expecting positive response from the people of the province and on the other devising strict measures under which after the Oct 1 deadline, the violators of the ban would face legal proceedings.

When asked about the negative impact on the business of certain industries producing such bags and offering employment to hundreds of people, he said some issues demanded immediate moves for the larger interest.

“In the days to come we would definitely move to the industry and talk to them as well. There is always a solution to any problem and we hope that our business community would sort out the issues in larger interest of the province and its environment,” added Barrister Wahab.

CM’s message

Meanwhile, Sindh Chief Minister Murad Ali Shah in a video message urged the public to avoid using plastic bags as they were a key element in creating pollution.

He said that the government would encourage the use of cloth-made or paper bags and appealed to the masses to join the campaign.

Published in Dawn, August 9th, 2019

 

      سر سبز وشاداب اور صحت مند سندھ حکومت کی پہلی ترجیح ہے,نوبزادہ تیمور  


کراچی (این اے رپورٹ) صوبائی وزیر ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی سندھ نوا بزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا ہے کہ مقامی کمیونٹی کو شامل کرنے اور سول سوسائٹی کو متحرک کرنے سے ہی ماحولیات میں خوشگوارتبدیلی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیر نے سمندر کے عالمی دن کے موقع پر ساحل سمندر کی صفائی کے حوالے سے سی ویو کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سبز و شاداب اور صحت مند سندھ کیلئے نیسلے پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو حکومت سندھ سراہتی ہے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے نمائندے ہیں، اس لئے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح بنیادوں پر حل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ عوام کی سہولت اور ذرائع کی فراہمی کیلئے اپنے ہر دوراقتدارمیں پہلی ترجیح دی اورسندھ سمیت پورے پاکستان میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمارے اس کام میں وفاقی حکومت روڑے اٹکا رہی ہے، اور مختلف اداروں کے توسط سے ہمیں اس عمل سے دور رکھنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی خدمت کے کاموں میں کسی قسم کے دباؤ میں ہر گز نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تھرمیں کوئلے سے بجلی کی فراہمی کا تسلسل جاری ہے، لیکن وفاق حکومت سندھ کے مذکورہ عمل سے ناخوش ہے،اسی لئے وزیر اعظم نے 600 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے پر حکومت سندھ کو مبارکباد تک نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ وفاق کا یہ رویہ مایوس کن ہے، لیکن حکومت سندھ اس سے بالا تر ہوکر قومی مفادات کیلئے دن رات کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرسبزوشاداب اور خوشحال سندھ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا ایک ویژن ہے، جس کی تکمیل کیلئے سندھ حکومت عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کے ترقیاتی رقم کی مد میں بقایات جات نہیں دیئے جا رہے، جس کے باعٹ سندھ کا ترقیاتی عمل شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر سندھ کی روکی گئی رقم فوری طور پر جاری کی جا

Beach cleaning drive

 Sindh Govt to issue closure notices to up to 100 industries of Karachi for defying Water Commission’s orders: Environment minister Taimur Talpur 

 Karachi

 Sindh Environment and Climate Change Minister Nawabzada Muhammad Taimur Talpur has said that the provincial government may issue closure notices to up to 100 industries of Karachi in next 10 to 20 days for consistently failing to act upon directives of the Supreme Court-appointed Water Commission to install an effluent treatment unit at their sites. 

“The sad aspect is that up to 85 per cent industries of Karachi didn’t act upon the directives of the Water Commission to install effluent treatment plant as all the deadlines given for the purpose were defied,” said the Sindh Environment Minister. 

Mr. Taimur Talpur stated this he spoke as being the chief guest at a programme to conduct a beach cleaning drive here at Sea View to mark the World Oceans’ Day. 

Nestlé Cares’ in collaboration with the National Forum for Environment (NFEH) and Health and Consumer Association of Pakistan (CAP) organized the activity. 

“We are a political government as we don’t want that we start using powers like a judge and start issuing orders for closure of the industries,” he said. “So we convened a meeting and asked the industries to start their work to install effluent treatment plants,” he said. 

“Luckily some of the people started their work but still there are a lot of industries, which are not cooperating with us in this regard,” said the Sindh Environment minister.     

“With sorrow I would say that I have been left with no option other than issuing of the closure notices to them (non-cooperating industries),” he said. 

The provincial minister said that the government could not compromise any more on survival of the country’s marine life and resources. 

He said that work was also on to install combined effluent treatment plants at different industrial zones of Karachi with support of federal government. 

He said that once these combined effluent treatment plants would be installed there would be 70 per cent to 80 per cent reduction in the environmental damage being done to the sea. 

Mr. Talpur said that since the time he had assumed the charge of provincial Environment Department there had been 50 per cent reduction in instances of open burning of municipal waste in Karachi nearby population. 

He said that concerned municipal organizations and police were being involved by his department to check and prevent instances of open burning of municipal waste in Karachi. 

He said that the provincial government would soon declare District South in Karachi a plastic-free zone by imposing a complete ban on use of polythene shopping bags. 

He conceded that an earlier decision of Sindh cabinet to impose ban on use of polythene bags in Sukkur District could not be properly implemented. 

“Much has been done and much more has to be done to safeguard the environment. A lot of harm has been done to the environment but thank God there is no damage, which could not be reversed,” said the Environment minister. 

Speaking on the occasion, NFEH President Naeem Qureshi said that 450 million gallons of untreated municipal and industrial waste of Karachi was daily being dumped into sea causing massive damage to the marine environment and life of Pakistan. 

“Karachi has three six industrial zones having 1,000 industries but very unfortunately all of them have been discharging their waste into sea without any treatment,” he said.

He said the situation had become so much adverse that Pakistan at present stood at 80th number among other countries in terms of protection of its marine environment. 

He said that sea was like a lifeline and a vibrant part of the Pakistan’s economy but instead of safeguarding it; its environment, marine ecology and resources were being constantly damaged. 

Speaking on the occasion, Kaukab Iqbal, CAP Chairman stated: “Organizations should come together for implementing such initiatives to establish common goals for protecting the environment.” 

Waqar Ahmad, Head of Corporate Affairs, Nestlé Pakistan, while sharing his views said, “Earlier this year, we led a country-wide tree plantation and cleanliness drive as part of our commitment to contribute towards the vision of a ‘Clean & Green Pakistan’. We have a broader vision and action plan that outlines our commitment to address the plastics packaging waste issue and this beach cleaning drive is also in-line with this pledge,” he added. 

 

 

 

 

21-06-2019

Today on 20/6/19 an awareness event on effects of climate change was arranged at a local hotel from SEPA in collaboration with WWF Pakistan, Oxfam and PDMA Sindh. It was a post observance event to mark the World environment Day, 2019. Opening remarks were provided by country director Oxfam Mr. Mohammed Qazilbash on impacts of climate change. He said that environmental degradation affects everyone irrespective of social class. He underscored that every individual should play his/her role for the environmental protection as it requires a change in life style. He also said that air quality today is significantly different all over Pakistan and in Sindh. It is alarming and ironic that most the intelligent creature on Earth  is destroying it. He elaborated that we have to keep in mind that our survival depends upon having a clean environment. Mr Moazam Khan, technical advisor WWF Pakistan gave an insight on implications of climate change on different segments and sphere's of life's particularly about its consequences on women and children. Mrs Tanzila, MPA Badin spoke about sufferings of people at Badin due to impacts of climate change and said Badin city is the city affected worst due to climate change and environmental degradation. She also spoken about the detrimental impacts of climate change on livelihood of masses in Badin and deplored that people are turning into beggars because their agricultural lands drying up. Local people from Badin also talked about the ordeal they are facing due to climate change. After this a panel discussion on impacts of climate change on communities in Sindh was held and it  compromised of Ms Zoofeen T Ebrahim, environmental journalist, Ali Shaikh CEO Lead Pakistan, Dr Amir from Institute of environmental studies Karachi University , DG SEPA, Naeem Mughal and others. They talked about different aspects of climate change on life of communities. DG SEPA briefed about  steps taken by an  environmental watchdog to protect an environment. At end chief guest minister for environment climate change and coastal development Mr Taimur Talpur has said that, “Pakistan ranks amongst the top ten most disaster-prone countries in the world, 

hence we must collectively acknowledge climate change is a serious issue.” He also shared that women, 

children and indigenous people are disproportionately affected by climate change which is expected to have 

wide-ranging impacts on Pakistan. He emphasized, “We must commit towards collectively tackling the impacts 

of this global challenge faced by many nations across the world.” Following the question answer session souvenirs were distributed by the chief guest , minister for environment climate change and coastal development Mr Taimur Talpur. The event was concluded by a theatre performance by Sheema Kirmani

 

12-06-2019
Sindh EPA has been issued decision on 10th June, 2019 for proposed installation of Eight (08) incinerator plants each having capacity of 100kg/hr in Eight Public Sector Hospitals in Sindh Province. The names are as under
1) Jinnah Postgraduate Hospital Karachi 
2) National Institute of Child Health,  Karachi 
3) Dr. Ruth Pfau Civil Hospital Karachi 
4) Sindh Government lyari General Hospital Karachi 
5) Liaqat University Hospital, Hyderabad 
6) Ghulam Muhammad Mehar Medical College Hospital Sukkur 
7) Chandaka Medical College Hospital Larkana 
8) Peoples Medical College Hospital, Shaheed Benazirabad
BUSINESS RECORDER
19-05-2019
92 News
 


08-05-2019
Today to overview the progress to install waste water treatment plants as per water commission directives by different sugar mills a meeting has been held at SEPA head office and chaired by minister for environment climate change and coastal development  Mr Taimur Talpur and Minister for Energy Mr imtiaz shaikh, DG SEPA has briefed the participants and said out of 38 sugar mills 32 are functional in Sindh, he has talked about installation of treatment plants by them, matter particularly about the 5 mills ie bandhi,sanghar,Habib,tharparkart and alnoor sugar mills had discussed in detail as they were dischargeing effluent at LBOD, at this occasion it was also discussed that distillery located at Habib mill is a major source of pollution , step needs to be taken in this regard also been discussed n a follow up meeting will be convene to overview the progress
07-05-2019
29-04-2019
Karachi, Sindh environmental protection agency, has held a consultative meeting at SEPA head office on air pollution in Sindh, challenges and a way forward,
DG SEPA Mr Naeem Mughal has welcomed and briefed participants about the major urban and rural pollution challenges in Sindh ranging from dumping of industrial solid waste into malir and lyari river, burning of domestic and commercial solid waste, vehicleur air emissions, pollution generates due to brick kilns, cotton ginning mill's etc and underscored the need of a coordinated effort  between all the concerned stakeholders to combat the air pollution, Mr Shahid lutfi an environmental consultant has urged to revisit the air quality standards and said that in future we will have yellow and other lines buses therefore it is obligatory to have air quality standards which can minimize the harm , he further said that Sindh EPA also acts as a advisory body so it should have proper guidelines for other concerned departments too to safeguard the environmental degradation, Mr Waseem Ahsan project director BST services at this occasion emphasized that there should be a sense of environmental owner ship prevail among all the government line department's, he has narrated the example of ssgc who despite of having LNG terminal facility bat port area was reluctant to facilitate different stakeholders, he told, Mr Gardezi from an NGO shehri has urged for more effective and coordinated liaison between all the government and other stakeholders and said that Sindh EPA can't act solely to safeguard an environment and said all the government departments have to pitch in to protect an environment, he further said that air pollution is a silent killer ,it kills slowly but it does, talking about the magnitude of implications he said air pollution is one of a primary source which contributes loss of human life's in Pakistan, as according to study he told 1 million infants under 5 years of age suffers badly health wise due to it, he also urged to revisit the emissions standards and further told that government should have zero telorance policy towards non compliance of an environmental law, Dr Salman director Sindh health commission has talked about crossed infection disease occurred at hospitals due to air and other forms of pollution, Mr saqib an environmental consultant talked about potential hazards of coal ash and regulation of plantation drive's in city and urged to decelar air pollution emergency in province, other participants also expressed their views on different aspects and it's determental impects of air pollution , at the end DG SEP has said Sindh EPA as a custodian of an environment taking all possible efforts to protect an environment like  he gave example of his surprised visit at different hospitals at Hyderabad on last Friday to monitor hospital waste management mechanism over there and said all the suggestions given today will be act upon without any delay.

It was also decided that all the valuable suggestions from the participants will be evaluated and implemented with a span of time as short term, mid term and long term goals, DG SEPA particularly emphasized that burning of solid and other waste should be stopped on war footing bases, and to chalk out a contengeny plan in this regard, steps will be taken with out any delay
24-04-2019
 
 
22 -04-2019
Karachi, today SEPA has marked world Earth Day 2019 at korangi association of trade and industry KATI, Minister for Environment, climate change and coastal development Nawabzada Taimur Talpur was the chief guest at this occasion, at the beginning president of Kati Mr Danish khan gave a welcome address to the chief guest and others and briefed them about the history/contributions and problems being faced by Kati,he said that Kati is the largest industrial association in Pakistan and catering up to 4500 industrial units, he told that 35 pc of leather goods routed from this area for export, and Kati contributes 40 to 50 crore daily in Katy of national exchequer.he urged to work together for betterment of  environment and industrialaist, Mr Saleem uz zaman chairman HSE and environmental management committee has talked about problems being faced by Kati and said that installation of pre treatment waste water plants is a problem for small and medium industrial units due to financial constraints, he has also talked about ease of doing business and other aspects like Delaying in given environmental NOC etc, he has urged to revisit some clause of environmental act 2014 and pleaded to make a committee to address the issues , Mr juaid naqi chairman standing committee for plantation has given a brief description about  tree plantation done by Kati, former chairman Kati Mr Masood naqvi has also spoken about different aspects of environmental degradation and constraints being faced by industrialaist  , he underscored the need of a proper and centralized mechanism for garbage collection and it's disposal, former chairman Kati Mr gulzar feroz has urged to revisit the Sindh environmental quality standards SEQS and make it more practical , keeping in view the ground relaties, Mr Zubair Chaya also spoken at the occasion, director general SEPA has said that SEPA is determined to play it's role as a custodian of an environment , he said this year earth Day theme is protect our species and we have witnessed that number of species are facing the extinction due to different environmental and other factors, he narrated the example of vultures in this regard, minister for environment , climate change and coastal development Mr taimur talpur has said that under the chairmanship of Mr Bilawal , we have a performance driven cabnit, and we are more than ready to address each and every true grievances of industry but on the other hand ignorance of law will not be accepted, he has directed to write a letter to solid waste management board about the proper functioning of garbage transfer station GTS and said that there is a dire need to have a liaison between government and industry for the betterment of city and province.
کورنگی انڈسٹریل ایریا آج بھی پاکستان کاسب سے بڑا معاشی حب ہے۔تیمور تالپور
کراچی(    ) صوبائی وزیر ماحولیات و موسمی تبدیلی نوابزاداہ محمد تیمور تالپور نے کہا ہے کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا ملک کا معاشی حب ہے جن کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور حکومت اس کیلئے ہر طرح کے اقدامات کررہی ہے،مسائل کے حل کیلئے آپ کی رہنمائی میں ہم نئی پالیسیاں بنائیں گے۔انہوں نے یہ بات آج کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے آفس میں ارتھ ڈے کے حوالے سے ہونے والے پروگرام کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلی بہت بڑا شعبہ ہے لیکن یہ غیر فعال ہے ہم اسے فعال بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومتی ادارے بھی ماحولیات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہوں گے ہم انہیں بھی نوٹس دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی(سیپا) کو کہا ہے کہ شہر میں کچرا جلانے والوں کو آگاہی پروگرام دیں اور اگر اس کے باوجود کچرے کو جلانے سے باز نہیں آئے تو ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صنعتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دیں،اس حوالے سے ہم ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد مزید آسان بنارہے ہیں تاکہ صنعتکاروں کو سہولیات مہیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ کراچی آج بھی معاشی سرگرمیوں کا سب سے بڑا حب ہے اور پاکستان کی 52 فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمارے فنڈز روکے ہوئے ہیں جس سے ہمارے لئے معاشی مسائل پیدا ہوگئے ہیں اس لئے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ہمارے فنڈ جاری کرے تاکہ ہمارے محکمے اپنا کام تسلسل سے کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ہم سے کہا ہے کہ کسی بھی کام کیلئے ٹائم لائن دیں اور اسے وقت پر پورا کریں، اس لئے ہم نے اپنے محکمے کو کہہ دیا ہے کہ وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ بنائے گئے منصوبے بروقت مکمل ہوں۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر دانش خان نے اپنے تمام منصوبوں کی تفصیلات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی بڑی ٹینری کی صنعتیں اسی ایریا میں ہیں اور ملک کی لیدر گڈز کی 3 فیصد ایکسپورٹ اسی ایریا سے ہوتی ہے۔پاکستان کی سب سے زیادہ فارما سیوٹیکل کمپنیز اسی علاقے میں ہے اسی طرح پاکستان کی سب سے بڑی  بسکٹ کی کمپنی بھی اسی علاقے میں ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل، کاٹی کے سابق صدور گلزار فیروز،مسعود نقوی، جنید نقوی اور دیگر نے خطاب کیا۔
 

STAKEHOLDERS DISCUSS SINDH’S DRAFT CLIMATE CHANGE POLICY

 

KARACHI: Stakeholders at a consultative meeting held on Tuesday discussed in detail a draft of the province’s first climate change policy and shared a number of suggestions that could help prepare a more focused and integrated policy.

The meeting, presided over by Minister for Environment, Climate Change and Coastal Development Nawabzada Mohammad Taimoor Talpur, was held at the old Sindh Assembly building.

Presenting an overview of the climate change policy draft prepared by Lead Pakistan with the support of the Sindh Environmental Protection Agency (Sepa), senior environmentalist Shahid Lutfi said that climate change affected every field and required a multi-sectoral approach.

He emphasised the need for getting the latest update on global warming, its impact on life, environment and resources and moving towards adaptation and mitigation accordingly.

Pakistan, he pointed out, contributed very little to the overall greenhouse gas emissions but remained severely impacted by the negative effects of climate change.

“Being a predominantly agriculture economy and vulnerable to extreme weather conditions, Pakistan has a great challenge of protecting itself from the adverse impacts of climate change,” he said, while mentioning the challenges posed by climate change, including droughts, floods, sea intrusion, heatwaves and cyclones.

The draft, he said, was an effort to mainstream this important subject in infrastructure development and planning, particularly in the economically and socially vulnerable sectors of economy.

He also referred to international agreements requiring countries to make progress on climate change and sustainable development and said that there were many examples around the world which had proved that climate-compatible development was very much possible.

Gaps in strategy

The presentation was followed by a discussion in which representatives of non-governmental organisations, environmentalists, government officials and academicians participated and highlighted gaps in the climate change policy draft.

Some participants were of the view that the draft contained old data and had missed out situation analysis as well as important sectors/areas, for instance, Ramsar sites, wetlands, health sector, biodiversity and forestry. It also lacked a strategy on its implementation mechanism, they said.

There was also an opinion that the geographical diversity Sindh boasted of required a region- or area-wise climate change strategy.

Seconding the opinion that the subject of climate change required an integrated approach, the minister said that the government would ensure that a comprehensive policy was prepared keeping in view the province’s high vulnerability to climate change.

“We understand that there are grey areas in the proposed climate change policy and that’s why we have called this consultative meeting,” he said, while directing the staff concerned to set up a subcommittee to rectify the draft and finalise it within two weeks.

Concluding the meeting, SEPA director general Naeem Ahmed Mughal thanked the participants for their feedback and said that this would help finalise an improved policy.

Published in Dawn, April 17th, 2019

 

 

12-04-2019

An IFC – World Bank Group mission met Director General, Sindh EPA on 11th April, 2019 to discuss the environmental aspects of windfarm developments at Jhampir Wind Corridor.  The mission included Lori Anna Conzo, Eskender Alemayehu Zeleke, Shahid Lutfi and Alvaro Cardenal being the experts in environment, biodiversity and social areas.  The mission appreciated SEPA’s efforts in supporting the renewable energy projects, the windfarms, in Sindh province and expected ensuring compliance of at approval conditions relating to environmental and social impacts of the projects. Director General apprised the mission about SEPA’s plan of monitoring the implementation status of the on grid windfarms.  He also assured the mission that under construction projects will also be visited by SEPA team to evaluate the E&S status of the construction contractors.

The mission was informed that under the prevailing legislation windfarms are required to prepare IEE studies of the projects which are reviewed by SEPA and approved for implementation of environmental management plan, being the essential component of the IEE reports. Mission suggested incorporation of key stakeholder’s, especially the Sindh Wildlife Department, in review process of IEE reports.

Responding to SEPA’s needs the mission extended its full support in capacity building of SEPA technical team for review of environmental assessment reports, follow up monitoring and understanding of IFC's performance standards and EHS guidelines on windfarms. The mission looked forward to continuation of SEPA’s support to the renewable energy projects in the province and facilitation for provision of necessary permits under the prevailing legislation.

 

Karachi: A delegation of an NGO “CITIZENS FOR ENVIRONMENT” has called

upon a meeting with Director general SEPA Mr. Naeem Mughal on Monday to discussed matters

of mutual interest related to betterment of an environment; it was agreed upon that SEPA and

civil society (CFE) will work together to brace the mandate of SEPA, it was also decided that

Sectorial committees will be formed and activated segment wise for the protection of natural

Environment.

Director general SEPA has underscored that SEPA is ready to cater the expertise of the

Professionals as he said that without collaboration between two desired results will not be

achieved.

It was also decided that prior to calling a public hearing reports will be reviewed by an

Eminent professionals to sort out discrepancies, it was also decided upon that environmental

Protection council will be activated at the earliest.

Effluent treatment plants needed on a war footing : printed in  The News

   
 
3rd  April , 2019
Combined effluent treatment plants needs to be installed on war footing bases, Nawabzada Taimur talpur minister for environment, climate change & costal development said.
To discuss major environmental issues of sindh and to deliberate progress on directions of water commission a meeting has been convened by Minister for Environment, Climate Change & Coastal development Sindh Nawabzada Taimur talpur.  
The purpose of this meeting was to discuss about recommendations of the Honorable Water Commission in respect of C.P 38 of 2016. Particularly regarding installation of Wastewater Treatment Plants (WWTPs)/ Septic Tank in all Industrial units, all the concerned stake holders ranging from all Industrial Associations of Sindh,Karachi Port trust(KPT),different cantonment boards, Sindh solid waste management, Sindh building control authority etc were present in a meeting Nawabzada Taimur talpur minister for environment & climate change has said under the chairman ship of Mr. Bilawal , we have a performance driven cabinet, and I have a open door policy as we are here today not to confront but to facilitate and all the concerned stake holders including all the government Departments have also to comply the directives as given in the orders of Honorable Water Commission i.e. Construction of Combined Effluent Treatment Plants (CETPs) in industrial zones and all the other auxiliary directives in this regard.
Mr Zubair Moti wala president North Karachi association has said that we are comply to follow the directives of water commission not just as a compulsion but also due to a fact it was a legal binding on us to fulfill export parametersParticipants have urged to constitute a committee to review the Sindh Environmental Quality Standards in order to meet a ground realities facing by industrial units,
D.G Sindh Environment Protection Agency (SEPA) Mr, Naeem Mughal has said that from last so many years we are listening the same excuses but it’s time to enforce the law as protection of environment in inevitable, it was also discussed in a meeting that though government  of Sindh is  installing 5 combined effluent treatment plants with a cost of Rs 11.3 billion but installation of pretreatment plants by industries is also obligatory.
Minister for environment, climate change & costal development has given directives to convene a meeting with administrator of DHA Karachi to overview progress of water commission and urged that installation of waste water treatment plants/septic tanks would be made on early bases and saiqsimd that otherwise law will take its own course

 
28 -03-2019

SEPA SEEKS DETAILS FROM LANDOWNING BODIES ON  COMMERCIALISATION OF ROADS

CLICK FOR DETAILS:: PUBLISHED IN DAWN 28-03-2109
 
ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (سیپا)نعیم مغل نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کورنگی انڈسٹریل ایریا،سیکٹر7-
میں واقع کمبائن ایفلوینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ فار ٹینریز(سی ای ٹی پی) کا اچانک دور کیا۔ دورے کے دروان اس بات کا انکشاف ہوا کہ کمبائن ایفلوینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ فار ٹینریز (سی ای ٹی پی) سندھ انوائرمینٹل کوالٹی اسٹینڈرڈ کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سندھ  ای پی اے  نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ قوانین کے مطابق (سی ای ٹی پی) کی انتظامیہ کو کیس کی سماعت کیلئے نوٹسز جاری کئے جائیں۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نعیم احمد مغل نے اپنی ٹیم کےہمراہ بروکس فارماسیٹکل کمپنی کا بھی دورہ کیا۔جہاں یہ معلوم ہوا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود کمپنی وسیٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگا سکی جس کی وجہ سے  گندے پانی کو ندی، نالے میں بہادیا جاتا ہے۔  ڈائریکٹر جنرل سندھ ای پی اے نےمتعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی بنیادوں پر کمپنی کے مالک کو سماعت کیلئے طلب کریں۔
Press release  published in dawn  22-014-2019
 
Today on 14,03,2019, newly appointed Secretary Climate Change, Environment and Coastal Development department, government of Sindh, Mr Saeed Ahmed Mangnejo chaired a meeting at Environmental Protection Agency, Sindh headquarter to overview the overall progress of an environmental watchdog. Director General SEPA Mr Naeem Ahmed Mughal welcomed him and gave a detailed and comprehensive overview in a form of a presentation regarding the domain, progress and functioning of SEPA, matters related to promulgation of Sindh Environmental Protection Act 2014, major environmental challenges confronted by Sindh, matter of compliance of directives of court orders, functioning of SEPA and other auxiliary matters were discussed in detail. At this occasion the secretary said that environment is a cross cutting subject and for making environmental compliance smooth, all possible measures will be taken. Secretary underscored the need of more rigorous implementation of SEP Act ,2014, and pointed out that excavangers are the main reason for burning of waste. He also emphasized the adoption of modern technology by industries to minimize the environmental hazards. At this occasion Deputy Secretary  Mr Junaid Rajput proposed the gradual adoption of zigzag technology by brick kilns. Director Technical Mr Waqar Phulpoto briefed the participants about a survey conducted by SEPA for the database of industrial units in Karachi. Director regional office Karachi Mr Ashique Langha also apprised the secretary about different issues. Director General SEPS said that despite handful resources SEPA is making all the possible efforts to bring all the concerned into an environmental ambient as he said that sepa has penalized different municipal corporations and others too. Secretary gave directives for the compliance of water commission in letter and sprit, transitional establishment of district offices, making of environmental committess at district level, submission of climate change policy plan, making of new and revised annual development plans and making of proper uniform for the field staff and said all these directions will be executed without any delay.
04-03-2019

Minister Environment terms Thar Coal projects as “Future of Sindh”

ISLAMKOT (Sunday, March 3, 2019) Terming the Thar Coal mining and power projects as future of Sindh, the Sindh Minister for Environment and Climate Change, Nawab Taimur Talpur has said that the stringent regulation and monitoring has been placed to protect the environment of Thar.

In the wake of increased industrial activities in the region of Thar, the environment department has taken extra measures to monitor the industrial activities and protect the environment and preserve natural habitat, he said during the visit of Thar Coal Block II mining, power projects, and community development projects.

He was accompanied by Director General, Sindh Environment Protection Agency (SEPA), Deputy Director SEPA, Imran Sabir. The minister was briefed by Umair Aslam Butt, Manager Health, Safety and Environment (HSE) and Mohsin Babbar, Manager CSR and Resettlement.

The minister visited Thar Coal Block II’s 3.8mpta mining and 660MWs power project, Biosaline agriculture fields, Sindh largest private sector nursery, New Senhri Dars Resettlement Village and Gorano Reservoir area.

The minister environment was of the view that SECMC is an environment friendly company, which is taking care of its responsibilities in a professional manner.

He said that the new resettlement village constructed to accommodate affectees of the coal mining project is a model development initiative of the government of Sindh.

“The Thar Coal Block II public private partnership model of Sindh government and Engro is future of Sindh,” he said.

The minister praised the initiatives taken by SECMC to protect the environment and preserving the natural habitat of Thar, especially the development of Gorano reservoir, which has now become the habitat of migratory Siberian birds.

Earlier, briefing the minister on measures taken by SECMC to protect the environment, Umair Aslam Butt said, they are not only following the national environment protection laws but also implementing best international practices being followed in the developed world.

He said, the company has planted 550,000 saplings of local species like Neem, Babbur, Kandi, Moringa, Roheero along with establishing Sindh’s largest private sector nursery of Sindh.

Briefing the minister about community development initiatives taken under Thar Foundation, Mohsin Babbar, Manager CSR said, the project is implementing Pakistan’s best inclusive development model by setting a target to make Islamkot as first SDG-compliant Taulka of Pakistan.

He said, Thar Foundation has established 25 school units with 2300 children receiving a quality education, adding that 6 RO plants providing clean drinking water to 10,000 population of the area and 25000 patients were treated in two healthcare facilities during the year 2018.

Press Release
01-03-2019
Today on 1/3/2019, DG Sepa Mr Naeem Mughal paid a surprise visit at Al Parveen and Mehran paper mill at Kotri industrial area, Hyderabad KATI. He gave directives for their proper disposal of waste water and other adequate measures regarding compliance of environmental law, i.e.
SEP Act, 2014. Earlier during a meeting order was passed by him to SITE regarding the full capacity functioning of combined effluent treatment plant along with mointoring of solid and other waste management by industrial units situated at SITE. It was also decided that SITE limited will expedite the process of implementation of PC 1. SITE is also directed to submit a list of all those industrial units working without in-house waste water treatment plant. DG Sepa has said that implementation of SEP Act 2014, will be made sure and no hinderance will be tolerated.
15/2/2019
Karachi: Director General Environmental Protection Agency Sindh Mr.Naeem Mughal called a personal hearing of Sharif solvent extraction plant located at Eastern zone, port Qasim. After going through briefing he gave the order of shutting down of the above mentioned unit as they were working in violation of Sindh Environmental Protection Act, 2014. More precisely in violation of section 14 and section 17 of SEP Act as it emerged after an inspection from SEPA that the oil extraction unit had no proper liquid/solid waste management mechanism, along with having no environmental management plan related to some emissions and discharge of waste water etc. Director General Environmental Protection Agency Sindh Mr.Naeem Mughal ordered of closing down the unit till the proper compliance with environmental laws and emphasized that stern legal action should be taken against all the violators.

Karachi: Director General Environmental Protection Agency Sindh Mr.Naeem Mughal called a

personal hearing of different industrial units located at Khamiso goth, adjacent to North Karachi

industrial area. After going through briefing he gave an order of shutting down of 3 industrial

units as they were working in violation of Sindh Environmental Protection Act, 2014. For others

he gave directives to the owners to submit Environmental Management Plans within a months’

time. He also gave directions to write a letter to the authorities concerned for the

determination of land use as it has appeared that residential and/ or commercial land is being

used for the industrial purposes.

He said that stern legal action will be taken against all the violators and also expressed his

concerns for the discharge of untreated waste water into Layri River by all those industrial

units.

Sepa organises training session for smart environmental management practices

The Sindh Environmental Protection Agency (Sepa) organised a training session in collaboration with the World Wide Fund for Nature (WWF) Pakistan on “Environmental Monitoring and Smart Environmental Management Practices (SEMPs)” on Wednesday and Thursday in Karachi and Hyderabad respectively.

According to the organisers, the main objective of the training was to enhance the acumen of field assistants, field supervisors and environmental inspectors of Sepa regarding smart environmental management practices in order for them to review their procedures and practices pertaining to environmental monitoring and sampling methodologies.

Sessions were held in accordance with the recently signed memorandum of understanding between Sepa and the WWF as the MOU envisaged applying internationally adopted labour environmental standards in the industrial sector of Sindh.

According to the MoU, WWF-Pakistan would provide technical support to the Sindh government through capacity-building, high-tech equipment provision for measuring ambient air quality and helping it to run a mass awareness campaign at the provincial level. These capacity-building sessions were a stepping stone in this direction.

Komal Naeem, senior officer, WWF-Pakistan, said that under the project, titled ‘International Labour and Environmental Standards (ILES) – Application in Pakistan’s SMEs’, WWF Pakistan intends to implement better environmental management practices in the industries in order to improve the capacity of the public sector to implement Multilateral Environmental Agreements (MEAs) and national environmental laws and standards in Pakistan.

She elaborated that the project involves building the capacity of the textile and leather sector to adopt to Smart Environmental Management Practices (SEMPs) in order to efficiently use water and energy resources and reduce the use of hazardous chemicals by 15 to 20 per cent. The environmental inspectors act as the backbone of the department since they perform sampling, testing and impact assessments for different industrial units and projects. With the recent proceedings of the Water Commission, trainings like these would help Sepa inspectors to put forth their stance in a logically and scientifically justified way.

Arjmand Qayyum Amjad, coordinator ILES, WWF-Pakistan shared a detail overview on Environment and Climate Change in context of Multilateral Environmental Agreements (MEAs) signed and ratified by Pakistan. He said that the textile and leather sectors represent the largest domain of the industrial base and play a key role in the country’s economy. He shared that these industries are resource intensive where large amounts of water, energy and chemicals of different classes are used, contributing to an overall increase in pollution levels in the country.     Printed in The News : 15th January 2019
https://www.thenews.com.pk/print/417607-sepa-organises-training-session-for-smart-environmental-management-practices

Karachi ; Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) has organized a capacity building hands-on Training on Environmental Monitoring and Smart Environmental Management Practices (SEMPs) etc. for its field staff particularly for fields assistant, environmental inspectors and field supervisors etc in collaboration with WWF Pakistan, at the beginning Ms. Komal Naeem senior officer International labor and environmental standards (ILES) has welcomed the participants and briefed them about the aim & purpose of the capacity building workshop; from SEPA Mr. Imran Sabir Deputy Director has said in the orientation that SEPA has handful of resources and to apprised their field staff with the latest industry trends and for effective environmental monitoring such kind of a trainings are of utmost importance.

Mr. Love Kumar from WWF has given a briefed orientation on ILES & WWF Pakistan working, Arjumand Qayyum coordinator fresh water program WWF has given a detail overview on Environment and Climate Change in context of Multilateral Environmental Agreements (MEA’s) signed by Pakistan or rectification has been done by Pakistan.
He has said that environment is everywhere and influences every one as every sphere of life is connected with it, he further elaborated that Pakistan is not a major contributor in environmental pollution but our country is one of a most vulnerable countries being affected by environmental degradation. Mr. Qazi from Archroma company has briefed the participants about handling of equipment for environmental monitoring in detail, he also talked about water and waste water testing parameters; he gave a detail overview on the environmental impacts of power of hydrogen (hp) and talked about the environmental impacts of turbidity etc. as well.Arjmand Qayyum also sensitizes the participants about an overview of environmental sampling methodologies in Textile and Leather Sectors and also given a detail overview related to Smart Environmental Management Practices (SEMPs) for industries in a comprehensive manner.
14-12-2018
 
کچرا جلانے والوں Ú©Û’ خلاÙ