Sindh Environmental Protection Agency                                                                        
Environment Climate Change & Coastal Development
Department , Government of Sindh.
Home About Us RULES Press Release Downloads/Reports Gallery Contact Us
 
PRESS RELEASE
On DG SEPA’s surprise visit  Poor environmental conditions found in 5 mills
KARACHI: The Director-General of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) Naeem Ahmed Mughal paid a surprise visit to five textile mills and monitored their production activities with regard to environmental standards on Friday here.
He found that none of the five mills was fully complying with the environmental laws of Sindh and most of their environmental affairs were not up to the mark.  
Escorted by Director Karachi Region Dr. Ashique Ali Langah and other technical officials Naeem Mughal visited 1) Qasim, 2) Rajby,3) Lucky, 4) Popular and 5) Zaman textile mills in District Malir and enquired about their level of environmental compliance.

He also asked them about their mandatory environmental approval before establishing their operational setup and also investigated if their effluent is being treated as per the required standard before its release into the water bodies.
None of the mills could have given a satisfactory answer to the above questions which implied that they were not fully complying with the environmental standards of the province.
He directed their representatives to appear in person before him on 19 February along with documentary evidence of their compliance with the concerned clauses of the Sindh Environmental Protection Act of 2014.
On this occasion, he said in his statement that he will keep paying surprise visits to industries and hospitals in various districts of Sindh to not only cross-check the performance of his monitoring team but also to check if industries are fully complying with the environmental standards practically.
He further said that Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change, and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab has directed to take necessary action against polluters indiscriminately and no leniency may be granted to them.

It may be mentioned that while expediting its monitoring activities, SEPA in the recent past took strict action against polluting factories and also sealed many manufacturing units on their continued violations.

It may be pointed out that under Sections 11 and 14 of the Sindh Environmental Protection Act 2014 all industries are bound to treat their effluent and wastewater before releasing it into the water bodies. In case of non-compliance, they may be fined and on their continued violations their operations may be stopped.
ڈی جی سیپا کا پانچ ٹیکسٹائل ملز کا اچانک دورہ
تمام ملز کی ماحولیاتی صورتحال دگرگوں نکلی
ماحولیاتی قوانین کی مکمل پاسداری سے پانچوں ملز کوسوں دور
کراچی: ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ(سیپا) کے ڈائریکٹر جنرل نعیم احمد مغل نے آج جمعہ کے روز ضلع ملیر میں واقع پانچ ٹیکسٹائل ملز کا اچانک دورہ کیا اورجانچ پڑتال کی کہ پانچوں صنعتیں اپنے پیداواری اور انتظامی امور کے دوران ماحولیاتی قوانین کی متعلقہ شقوں پر عمل کررہی ہیں یا نہیں۔ 
ڈی جی سیپا نے دیکھا کہ پانچوں ملز کی ماحولیاتی صورتحال دگرگوں ہے اور پانچوں کی پانچوں ملز ماحولیاتی قوانین پر مکمل عمل نہیں کررہی ہیں جسے دیکھتے ہوئے ان کے خلاف ضابطے کے ضروری تقاضے پورے کرتے ہوئے ضروری کارروائی کی جائے گی
نعیم مغل،کراچی ریجن آفس کے ڈائریکٹر عاشق علی لانگاھ اور تیکنیکی عملداروں کے ہمراہ رجبی ٹیکسٹائل ملز، قاسم ٹیکسٹائل ملز لکی ٹیکسٹائل ملز، پاپولر ٹیکسٹائل ملز اور زمان ٹیکسٹائل ملز کے اندرونی حصوں تک گئے اور ان کے پیداواری امور کی ماحولیاتی نگرانی کی۔ 
پانچوں ملز سے ان کے آپریشنز شروع کرنے سے قبل لازمی مطلوب ماحولیات اجازت ناموں کے بارے میں دریافت کیا گیا اور یہ بھی پوچھا گیا کہ مذکورہ صنعتیں اپنے آبی فضلے کو بہانے سے قبل اس کوسائنسی عمل سے گزار کر بے ضرر بناتی ہیں یا نہیں۔ پانچوں میں سے کوئی بھی صنعت پوچھے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ 
بعد ازیں ڈی جی سیپا نے پانچوں ملز کی انتظامیہ کو ہدایات دیں کے وہ کس حد تک اپنے ماحولیاتی امور میں سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014پر عمل کرتی ہیں اس کے دستاویزی ثبوت لیکر ان کے دفتر میں 19فروری کو پیش ہوں تاکہ ان کی ماحولیاتی پاسداریوں کا باریک بینی سے متعلقہ قوانین کی روشنی میں جائزہ لیا جاسکے۔ 
اس موقع پر ڈی جی سیپا نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کی اس ضمن میں سختی سے ہدایات ہیں کہ ماحولیاتی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر سے کوئی رعایت نہ برتی جائے اور ان کے خلاف قانون کے عین مطابق فوری کارروائی کی جائے۔ 
انہوں نے کہا کہ سندھ کی تمام صنعتوں کی ماحولیاتی نگرانی میں مزید تیزی لائی جائے گی اور وہ مختلف اضلاع کی صنعتوں اور ہسپتالوں کے اچانک دورے کرتے رہیں گے تاکہ ان کی ماحولیاتی نگرانی کی ٹیموں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں و ہسپتالوں کی اچانک نگرانی سے ان کے ماحولیاتی امور کی درست صورتحال کا بھی اندازہ لگایا جاسکے۔ 
واضح رہے کہ سیپا گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی صنعتی نگرانی کی سرگرمیوں میں تیزی لاتے ہوئے ماحولیاتی خلاف ورزی کی مرتکب صنعتوں کو ماحولیات نوٹسز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی بدستور جاری رکھنے والی متعدد صنعتوں کو سربمہر بھی کرچکی ہے۔ 
سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014کے تحت صنعتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنا آبی فضلہ جس میں خطرناک کیمکلز ملے ہوتے ہیں اسے بے ضرر(ٹریٹ) کرنے کے بعد بہائیں ورنہ اس سے سنگین آبی آلودگی پھیلتی ہے اور ایسا پانی استعمال کرنے سے پیٹ،ہڈیوں اور گردوں کی بیماریوں کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آبی حیات بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور سمندری خوراک بجائے فائدہ دینے کے صحت کے لیے نقصان دہ ہوجاتی ہے۔   
سندھ کے ماحولیاتی قواعد و ضوابط کے تحت ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی مرتکب صنعتوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جبکہ خلاف ورزی ہٹ دھرمی کے ساتھ جاری رکھنے پر انہیں سر بمہر بھی کیا جاسکتا ہے۔ 

ضلع سانگھڑ میں درختوں کی کٹائی کی شکایات پر محکمہ ماحولیات کا نوٹس
 
کراچی: ضلع سانگھر میں درختوں کی کٹائی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی، اخباری و نشریاتی شکایات اوربعد ازیں انہیں روکنے کے لیے محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ضلع بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی، حکومت سندھ نے بھی اپنے فیلڈ کے دفاتر کو درختوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات لینے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

وزیرا علی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی اس ضمن میں سختی سے ہدایات ہیں کہ ماحولیاتی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور ماحولیات کی حفاظت اور ماحولیاتی کاوشوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن معاونت کی جائے۔ 
 
 محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی نے اس حوالے سے اپنے ذیلی ادارے، ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے ضلع سانگھڑ میں بالخصوص اور صوبے بھر میں بالعموم درختوں کی کٹائی کی شکایات پر اپنے دائرہ اختیار کے مطابق فوری ایکشن لیا جائے کیونکہ درختوں کی سا لمیت اور نشونما بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی تلافی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ 

اس حوالے سے ای پی اے سندھ کے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور سکھر کے علاقائی دفاتر کے لیے ہدایات جاری کرنے کا  کہہ دیا گیا ہے تاکہ ان کے فیلڈ افسران مختلف قسم کی ترقیاتی، صنعتی اور طبی سرگرمیوں کے دوران ہونے والی ممکنہ آلودگی کی روک تھام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ درخت کاٹنے والے عناصر پر بھی نظر رکھیں اور اس ضمن میں ملنے والی شکایات کو سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں۔

واضح رہے کہ درختوں کی کٹائی کی روک تھام براہ راست اپنے دائرہ اختیار میں نہ ہونے کے باوجود، محکمہ ماحولیات اور اس کا ذیلی ادارہ ای پی اے سندھ صوبائی ماحولیاتی قوانین کے مطابق درختوں کی حفاظت اور شجرکاری کے فروغ کے لیے وقتا فوقتا اقدامات لیتا رہتا ہے اور ماحولیاتی جائزے کے لیے جمع کرائے گئے ترقیاتی منصوبوں کی ماحولیات منظوری کو بھی منصوبے کے ایریا میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری سے مشروط کرتا ہے۔   

ترجمان
محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ

SEPA seals 5 polluting factories; cases of 2 sent to court
KARACHI: On the directives of Advisor to CM Sindh for Law, Environment, Climate Change and Coastal Development, Barrister Murtuza Wahab; a team of Sindh Environmental Protection Agency, Government of Sindh has sealed five polluting factories in Korangi Industrial Area while cases of another two were forwarded to court for punitive action. 
According to details, on violation of Section 11 of Sindh Environmental Protection Act 2014, M/s Jena Dying, M/s Hamid Dying and M/s Ibrar Dying were sealed due to generating wastewater while M/s Thermoline for generating air emissions and M/s Baba Shop for using smoky generator were shut down. 
Moreover, on violation of Section 14 of the Sindh Environmental Protection Act 2014, the cases of M/s Indus Printing Press and M/s Shapur Apparel were forwarded to Judicial Magistrate on account of open burning of solid waste.
With regard to the above action, Advisor on Environment Barrister Murtuza Wahab has said in a statement that across-the-board action will be continuing against polluting factories because pollution also harms the environment and human beings without any discrimination. He urged the industries and developmental institutions to comply with Sindh Environmental Protection Act 2014 so that the wheel of progress and development may be continuing without harming our natural environment. 

آلودگی پھیلانے والی پانچ صنعتیں سربمہر جبکہ دو کے مقدمات عدالت بھیج دئیے گئے

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پرادارہ تحفظ ماحولیات کی ٹیم نے کورنگی صنعتی ایریا کی آلودگی پھیلانے والی پانچ صنعتیں سربمہر(سیل)کردیں جبکہ آلودگی پھیلانے والی دو کمپنیوں کے مقدمات قانونی کارروائی کے لیے عدالت بھیج دئیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق جینا ڈائنگ، حامد ڈائنگ اور ابرار ڈائنگ نامی کمپنیوں کو آلودہ پانی ٹریٹ کیے بغیر بہانے کی پاداش میں سیل کیا گیا جبکہ تھرمولائن کمپنی کو فضائی آلودگی پھیلانے اور بابا شاپ نامی کمپنی کو آلودگی پھیلانے والا جنریٹر استعمال کرنے پر سربمہر کیا گیا۔
علاوہ ازیں صنعتی کچرہ جلانے کے ماحولیاتی جرم میں انڈس پرنٹنگ پریس اور شاہ پور ایپرل کے مقدمات جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت بھیج دئیے گئے تاکہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات پر عمل نہ کرنے پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکے۔ 
اس حوالے سے مشیر ماحولیات مرتضی وہاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی، کیونکہ آلودگی کے نقصانات بھی بلا تفریق سب کو یکساں بھگتنے ہوتے ہیں، اس لیے تجارتی و ترقیاتی اداروں کو چاہئے کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل کریں تاکہ ماحول کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر صوبے میں اقتصادی و صنعتی ترقی کا پہیہ رواں دواں رہے۔ 

پلاسٹک بیگز کی پابندی توڑنے والوں کے خلاف کارروائیاں

ڈیڑھ من ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط

کراچی:. وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر صوبے بھر میں ممنوعہ پلاسٹک بیگز کی خریدوفروخت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

تفصیلات کے مطابق ای پی اے سندھ کی ضلع شرقی کی ٹیم نے منگل کے روز سچل ٹاون اور مبینہ ٹاون میں دکانوں کی چیکنگ کی

ڈپٹی ڈائریکٹر اظہر خان کی سربراہی میں سیپا ٹیم نے 38 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کرلئے

جبکہ ضلع وسطی کی ٹیم نے واٹر پمپ, کریم آباد اور فیڈرل بی ایریا میں دکانوں کی چیکنگ کی

اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالمالک کی سربراہی میں سیپا کی ٹیم نے 18 کلو ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کیے

آج منگل کے روز شہر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر ڈیڑھ من ممنوعہ پلاسٹک بیگز قبضے میں لیے گئے 

 اس حوالے سے مشیر ماحولیات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عوام بھی ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کریں

واضح رہے کہ سندھ بھر میں ناقابل تلف (non biodegradable) پلاسٹک بیگز کے استعمال, خرید و فروخت اور تیاری پر پابندی ہے جبکہ قابل تلف (oxo biodegradable) پلاسٹک بیگز.بصورت مجبوری استعمال کئے جاسکتے ہیں

 
دو دریا, بوٹ بیسن کے ریسٹورنٹس کی ماحولیاتی جانچ پڑتال

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر دو دریا اور بوٹ بیسن پر واقع ریسٹورنٹس کا ماحولیاتی معائنہ کیا گیا.
ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر عبیداللہ مگسی کی سربراہی میں مذکورہ ریسٹورنٹس کی ماحولیاتی جانچ پڑتال کی 
اس ضمن میں ریسٹورنٹس کے غذائی کچرے اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے امور کے شواہد اکٹھے کئے گئے
اور مذکورہ دونوں علاقوں کے ریسٹورنٹس کے نکاسی آب کے طور طریقوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی
اس کے ساتھ ساتھ عمومی صفائی اور ریسٹورنٹس کے اندرونی ماحول کی بھی چیکنگ کی گئی
ابتدائی جائزے کے مطابق بیشتر ریسٹورنٹس کی ماحولیاتی صورتحال غیر اطمینان بخش ہے
جبکہ تفصیلی جائزہ رپورٹ کی روشنی میں ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے مرتکب ریسٹورنٹس کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے گی
واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات 2014کے مطابق کسی بھی قسم کی تجارتی, صنعتی اور ترقیاتی سرگرمی کے دوران سندھ کے زمینی, فضائی اور آبی ماحول کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب فرد یا ادارے کی صورت میں کے مجاز مالک پر بھاری جرمانہ عائدکیا جاسکتا ہے جبکہ ہٹ دھرمی دکھانے پر ایسے ادارے کو سربمہر بھی کیا جاسکتا ہے
 
ای پی اے سندھ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی مشترکہ ماحولیاتی کاوشوں میں پیش رفت جاری

سیپا فیلڈ اسٹاف کو ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کی تربیت دے دی گئی

چمڑہ اور کپڑہ سازی کی صنعتوں کی ماحولیاتی نگرانی کے لیے معلومات مرتب کرلی گئیں

سیپا لیبارٹری کو مطلوب آلات کی لاگت کا تخمینہ لگا لیا گیا

سیکریٹری ماحولیات کی زیر صدارت جائزہ اجلاس

کراچی: ادارہ تحفظ ماحولیات، حکومت سندھ (ای پی اے سندھ) اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر(ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی تحفظ ماحولیات کے حوالے سے طے شدہ ماحولیاتی کوششوں میں پیش رفت جاری ہے اور اس ضمن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے سیپا کے کراچی و حیدرآباد کے فیلڈ اسٹاف کی تین تربیتی نشتوں  کے علاوہ کراچی کے ٹیکسٹائل اور لیدر مصنوعات سازی کی صنعتوں کے بنیادی ڈھانچوں کی ماحولیاتی تناظر میں اسٹڈی کرانے کے ساتھ ساتھ صنعتوں سے نکلنے والے ٹھوس و آبی فالتو مواد کی تجزیاتی تشخیص کے لیے ای پی اے سندھ کی لیبارٹر ی کو مطلوب سازو سامان کی لاگت کا تخمینہ لگا چکا ہے جو تین کروڑ روپے بنتی ہے
یہ بات ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سندھ و بلوچستان کے سربراہ اور ڈائریکٹر کنزرویشن ڈاکٹر بابر نے آج محکمہ ماحولیات کے دفتر میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں شرکاء کو بتائی جس کی صدارت سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی, حکومت سندھ خان محمد مہر کررہے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال کے اواخر میں دونوں اداروں کے مابین ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ڈبلیو ڈبلیو ایف کو ماحولیاتی شعور، تیکنیکی اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور ماحولیات کے حوالے سے بنیادی اعداد شمار مرتب کرنے میں ای پی اے سندھ کی مدد کرنا طے پایا تھا۔
اس سے قبل اپنے افتتاحی کلمات میں سیکریٹری ماحولیات خان محمد مہر نے کہا کہ صوبے میں ماحول کے تحفظ، آلودگی کی روک تھام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی اشتراک کے ساتھ اپنے فرائض منصبی انجام دیں اور جو ادارہ کسی خاص شعبہ میں بہتر ہے وہ اپنی مہار ت و استعداد سے دیگر اداروں کے ساتھ معاونت کرے اور اسی سوچ کے تحت پچھلے سال ای پی اے سندھ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مابین کی گئی مفاہمت کی یادداشت پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے روشنی میں بہتر سے بہتر ماحولیاتی کوششوں کے ذریعے صوبے میں پائیدار ترقی کو یقینی اور آلودگی سے پاک بنایا جاسکے گا۔
سیکریٹری ماحولیات نے مزید کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات ہیں کہ ماحولیات کے تمام ضمنی شعبہ جات میں بھرپور کارکردگی کا مظاہر ہ کیاجائے تاکہ صوبے میں ہرحوالے سے ماحولیاتی بہتری آسکے جس سے صحت کے مسائل میں کمی آئے گی، غربت کا خاتمہ ہوگا اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ 
اجلاس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر بابر نے بتایا کہ ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف متنوع پروگرامات پر غور فکر جاری ہے جن کی حتمی منظوری کے بعد انہیں بھی عملدرآمد کے لیے پیش کردیاجائے گا جس میں ماحولیاتی کیلینڈر کی تدوین قابل ذکر ہے جس کی مدد سے عالمی سطح پر ماحولیات کے حوالے سے منائے جانے والے تمام ایام کے بارے میں نہ صرف عوام کو آگاہ کیا جاسکے گا بلکہ انہیں منانے کی بھی نچلی سطح پر ترغیب دی جاسکے گی، اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کے ماحولیاتی اعداد شمار اکٹھا کرنے کی ضمن میں بھی ای پی اے سندھ کی بھرپور مدد کی جائے گی۔
اجلاس میں محکمہ ماحولیات کے اسپیشل سیکریٹری نوید احمد اعوان،  ڈپٹی سیکریٹری ٹیپو سلطان، ڈپٹی سیکریٹری جنید راجپوت، ایڈیشنل ڈی جی ای پی اے سندھ وقار حسین پھلپوٹو اور ڈائریکٹر ای پی اے سندھ کراچی ڈاکٹر عاشق لانگاھ بھی شریک تھے۔

SEPA  serves reminders of notices to 5 civic agencies on dumping of solid waste into the sea

KARACHI: On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development, Barrister Murtuza Wahab, Sindh Environmental Protection Agency served reminders of its earlier notices to five civic agencies of Karachi on complaints of dumping of solid waste into the sea.

They are KMC, DMC South, KWSB, Sindh Solid Waste Management Board and Cantonment Board Clifton.

One month ago they were served notices which were not 
responded by them as yet. Therefore, as reminder they were served notices again.

In earlier notices they were offered an opportunity of personal hearing to defend their position on subject matter. However none of them availed the opportunity.

This time they were directed to submit their progress report on subject matter within week's time failing which action would be initiated against them as per provision of Sindh Environmental Protection Act 2014 which may include prosecution against them in the court of civil judge judicial magistrate 

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے سمندر میں بلدیاتی کچرہ پھینکے جانے کی عوامی شکایات پر کے ایم سی, ڈی ایم سی جنوبی, سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ, کے ڈبلیو ایس بی اور کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کو دوبارہ نوٹسز جاری کردئیے

ایک ماہ قبل اس حوالے سے بھیجے گئے نوٹسز پر ان میں سے کسی ادارے نے کوئی جواب نہیں دیا تھا گزشتہ نوٹسز میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ مذکورہ معاملے کی روک تھام کی خاطر لیے گئے اقدامات سے ای پی اے سندھ کو آگاہ کریں تاہم کسی بھی ادارے نے اس حوالے سے بھی کوئی پیش قدمی نہیں دکھائی تھی

اب کی بار دوبارہ بھیجے گئے نوٹسز میں انہیں ایک ہفتے کے اندر معاملے پر اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کا کہا گیا ہے

بصورت دیگر ان کے خلاف صوبائی ماحولیاتی قانون کے تحت ضابطے کی کارروائی کی جائے گی

ضابطے کی کارروائی کے تحت سول جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کا اندراج بھی کیا جاسکتا ہے


Secretary Environment presided over the meeting of public complaints cell
SEPA asked to further expedite process of complaints disposal
KARACHI: Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) has disposed of total 217 complaints related to various types of environmental violations which were received from people of the different area of the province. Before their disposal, all the complaints where first technically and legally examined to take most appropriate action as per the provisions of Sindh Environmental Protection Act 2014 to control all types of pollution for the purpose of ensuring sustainable development in the province. 
Another 76 complaints of similar nature are being disposed of presently while their environmental and legal aspects are being examined so that they may also be disposed of effectively in accordance with the environmental regulations of the province. 
Out of total 217 complaints disposed of so far, 112 were from Karachi region, 24 each from Hyderabad and Sukkur, 14 from Mirpurkhas and 12 from Larkana while 31 were from the jurisdiction of Environment, Climate Change and Coastal Development Department, Government of Sindh. 
In a meeting of Public Complaints Cell of the Department held under the chairmanship of the Secretary Environment, Climate Change and Coastal Development Department Government of Sindh Khan Muhammad Mahar, he was informed that all the complaints received so far mostly pertain to all the three major types of pollution i.e air, land and water. Most of the violations were reported to have been committed in far flung areas and vicinities of towns and cities of the province. Owing to lack of access of any appropriate monitoring over there, environmental violations were being committed openly in such places.
The Incharge of Public Complaints Cell of SEPA, Additional Director General Waqar Hussain Phulpoto informed the Administrative Secretary that usually sizeable time is required to examine each complaints from both technical and legal point of view. However, despite of it, SEPA considers it as its one of the top priorities to dispose of public complaints as there is no question of delay to address the public grievances. Therefore, most of the complaints in SEPA are entertained without any unnecessary delay.
Secretary was also informed that support of local police is mostly required for taking action to address the public complaints of far flung areas. For ensuring availability of police force at stipulated time of action, they are to be informed well before time. Moreover, availability of police force at the time of SEPA’s action is subject to absence of any emergency situation in the jurisdiction of the police. 
The participants of the meeting were informed that for effective actions on public complaints regarding operations of illegal bricks and battery kilns and oil manufacturing from animal bones a sizeable number of policemen is required. Therefore, SEPA’s team assigned with such tasks has to wait till the availability of required number of policemen for this purpose. Meanwhile action on such complaints remains in pending. 
Earlier in his opening remarks, the Secretary Environment said that Advisor to CM Sindh on Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab has strictly directed to avoid delaying the disposal of public complaints and all resources should be utilized to take prompt action on them. 
The Secretary directed the officials of Public Complaints Cell of SEPA to further expedite the process of disposal of environmental complaints lodged by the people of the province because their non-disposal is not only adverse for environment but equally harmful for human health as well. 
Those who attended the meeting were Deputy Secretary, Environment Department Tipu Sultan; Director SEPA Karachi Region Dr Ashique Langah; Deputy Directors Waris Gabol, Azhar Khan, Abdullah Magsi; Coordinator Complaints Cell of the Department Agha Gul Muhammad; Assistant Directors  Mubarik Ali, Muhammad Shoab and Abdul Malik. 

سیپا نے عوام کی دو سو سے زائد ماحولیاتی شکایات نمٹا دیں
سیکریٹری ماحولیات کی زیر صدارت شکایات سیل کا اجلاس
سیپا کو عوامی شکایات پر کارروائی میں مزید تیزی لانے کی ہدایات
کراچی: ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے صوبے کے مختلف علاقوں کے عوام کی جانب سے کی گئیں کل 217ماحولیاتی شکایات ماحولیاتی قوانین کی روشنی میں ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے بخیر و خوبی نمٹا دیں جبکہ 76شکایات پر کارروائی جاری ہے جن کے مختلف تیکنیکی اور قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ ان پر بھی موثر کارروائی کرتے ہوئے انہیں نمٹایاجاسکے۔
اب تک نمٹائی جانے والی سب سے زیادہ 112 شکایات کراچی جبکہ 24شکایات حیدرآباد، 24 سکھر 12لاڑکانہ، 14 میرپورخاص اور 31شکایات محکمہ ماحولیات کے دائرہ اختیار سے تعلق رکھتی تھیں۔ 
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیل و ساحلی ترقی خان محمد مہر کی صدارت میں محکمے کے عوامی شکایات سیل کے اجلاس میں سیکریٹری کو بتایا گیا کہ اب تک موصول ہونے والی شکایات کا تعلق زیادہ تر تینوں اقسام کی آلودگیوں یعنی فضائی، زمینی اور آبی سے تھا جبکہ بیشتر خلاف ورزیاں دور دراز مقامات یا شہروں کے مضافاتی علاقوں و بستیوں سے تعلق رکھتی تھیں جہاں آلودگی پھیلانے والے کوئی براہ راست نگرانی نہ ہونے کے باعث با آسانی ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔ 
ادارہ تحفظ ماحولیات میں عوامی شکایات سیل کے انچارج ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو نے سیکریٹری ماحولیات کوبتایا کہ بیشتر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے تیکنیکی اور قانونی پہلووں کا جائزہ لینے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے تاہم سیپا عوامی شکایات دور کرنے کے اہداف کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھتا ہے اسی وجہ سے شکایات کی مذکورہ تعدار کو محدود وسائل کے باوجود بروقت نمٹادیا گیا۔
سیکریٹری ماحولیات کو بتایا گیا کہ دور دراز کے مقامات پر شکایات کے موثر ازالے کے لیے بروقت کارروائی کی خاطر مقامی پولیس کی معاونت بھی درکار ہوتی ہے جس کے لیے پولیس کی مقررہ دن دستیابی ممکن بنانے کے لیے پیشگی اطلاع دینی ہوتی ہے جبکہ پولیس کی دستیابی بھی اس کے دائرہ کار میں کارروائی کے روز امن عامہ کی صورتحال معمول کی ہونے سے مشروط ہوتی ہے۔ 
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی شکایات جو اینٹوں کے غیر قانونی بھٹوں، جانوروں کی ہڈیوں اور آلائشات سے تیل بنانے کے کارخانوں اور آٹو بیٹریوں کی ری سائکلنگ کے کارخانوں سے متعلق ہوتی ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس فورس کی زیادہ تعداد کی ضرورت ہوتی ہے جن کی فوری دستیابی دور دراز کے گاؤں دیہاتوں میں ممکن نہیں ہوتی ہے اس لیے فورس کی مطلوبہ تعداد کی دستیابی تک شکایت کو روکے رکھنا پڑتا ہے۔
قبل ازیں سیکریٹری ماحولیات نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی سختی سے ہدایات ہیں کہ ماحولیات کے حوالے سے عوامی شکایات دور کرنے کے لیے کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور بروقت اقدام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ 
 انہوں نے سیپا کے شکایات سیل کو تاکید کی کہ عوامی شکایات دور کرنے کے عمل میں مزید تیزی لائے اور اس مقصد کے لیے تیکنیکی عملے کی کلی طور پر تعیناتی کی جائے، انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی شکایات رفع نہ ہونے کا نہ صرف ماحول کو نقصان ہوتا ہے بلکہ انسانی صحت بھی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
شکایات سیل کے اجلاس میں محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی سیکریٹری ٹیپو سلطان، ڈائریکٹر سیپا ریجنل آفس کراچی ڈاکٹر عاشق علی لانگاھ، ڈپٹی ڈائریکٹرز وارث گبول، محمد اظہر خان، عبداللہ مگسی، شکایات سیل کے کوآرڈینیٹر گل محمد خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز مبارک علی،محمد شعیب اور عبدالماک شریک تھے۔
ترجمان
محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ

 
 سیپا کی اس سال کی کارکردگی کا اجمالی جائزہ 

کراچی: اپنے قیام کے بعد سے اب تک اختتام پذیر سال میں ادارہ تحفظ ماحولیات نے بہترین سالانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا 

اس سال ادارے نے متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ اگست میں مرتضی وہاب کی بطور مشیر ماحولیات تقرری کے بعد سے دسمبر 2019 تک  کیا جس دوران 700 صنعتوں, ہسپتالوں, تعمیراتی منصوبوں و دیگر اداروں کو ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی کے شبے میں نوٹسز جاری کئے گئے بعد ازیں ان میں سے 320 کو ذاتی شنوائی کا موقع دیا گیا اور انہیں اپنے ماحولیاتی امور درست کرنے کا کہا گیا جس کے بعد ماحولیاتی معاملات میں بہتری نہ لانے پر 35 کو ماحولیاتی تحفظ کا حتمی حکم نامہ جاری کیا گیا جبکہ ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب 240 مختلف نوعیت کے پیداواری یونٹس بشمول بیٹری ری سائکلنگ کے کارخانے اور اینٹوں کے بھٹوں  کو بند کرادیا گیا ساتھ ہی ساتھ خلاف ورزی کے مرتکب 50 یونٹس کے مقدمات عدالتوں میں بھیج دئیے گئے

اس کے علاوہ سندھ کے چھوٹے بڑے سرکاری و نجی ڈیڑھ سو کے قریب ہسپتالوں کی ماحولیاتی نگرانی کی گئی اور انہیں ذاتی شنوائی کا موقع دے کر ان سے ماحولیاتی قوانین اور طبی فضلے کے انتظامی قواعد پر عمل کرایا جارہا ہے

مزید یہ کہ ایک طویل عرصے بعد ٹریفک پولیس کے اشتراک سے دھواں دینے والی گاڑیوں کی دوبارہ نگرانی شروع کردی گئی ہے اور کراچی کی مختلف شاہرائوں پر چھ سو گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جن میں سے مقررہ حدود سے زائد دھواں دینے والی ڈھائی سو گاڑیوں پر ٹریفک پولیس کے ذریعے جرمانے بھی کئے گئے.

سب سے بڑھ کر یہ کہ یکم اکتوبر سے صوبے بھر میں ماحول دشمن پلاسٹک بیگز کے استعمال, تیاری اور خرید فروخت پر پابندی لگا کر ان کی جگہ ماحول دوست پلاسٹک بیگز متعارف کروادئیے جو موٹائی میں زیادہ ہوتے ہیں اور بہ آسانی تحلیل کئے جاسکتے ہیں 
 

لیاقت نیشنل ہسپتال کو طبی کچرے کا انتظام مزید محفوظ بنانے کی ہدایت

کراچی:.ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ٹیم نے حال ہی میں لیاقت نیشنل ہسپتال کے طبی کچرے کو ماحول دوست طریقے سے تلف کرنے کے مراحل کا معائنہ کیا اور کچھ کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہوئے طریقہ کار کو مزید محفوظ بنانے کی ہدایت کی

وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی ویاب کی ہدایات پر دیگر قسم کی آلودگیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ای پی اے سندھ طبی فضلے کی ضرر رسانیوں سے بھی عوام اور ماحول کو محفوظ رکھنے میں مصروف عمل ہے اور ادارے کی ٹیمیں صوبے کے چھوٹے بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں کی مستقل بنیادوں پر ماحولیاتی نگرانی کررہی ہیں.

اس ضمن میں جب سیپا کی ٹیم نے ایڈیشنل ڈی جی وقار حسین پھلپوٹو کی نگرانی میں لیاقت نیشنل ہسپتال کے طبی کچرے کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگائے جانے کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا تو اس میں کچھ کمیاں دیکھیں
 
جن میں قابل توجہ طبی کچرے کو عمومی کچرے سے علیحدہ کرنے کے ناکافی اقدامات اور طبی کچرے کو اسٹور کرنے میں مزید بہتری کی گنجائش قابل ذکر ہیں
 سیپا کی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈی جی وقار حسین پھلپوٹو نے موقع پر ہی ہسپتال انتظامیہ کے نمائندے بشیر احمد کو مذکورہ کمیاں دور کرنے کی ہدایات دیں اور اس ضمن میں صوبے کے قوائد برائے طبی فضلے کے انتظام 2014 پر مکمل طور پر عمل کرنے کی تاکید کی

ہسپتال انتظامیہ سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے طبی کچرے کے ماحول دوست بندوبست کی تفصیلات سندھ ای پی اے میں جمع کرائے تاکہ اس کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرکے ماحولیاتی قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جاسکے
واضح رہے کہ جب کوئی ادارہ کسی چھوٹی موٹی ماحولیاتی کوتاہی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو سیپا اسے باقاعدہ نوٹس دینے کی بجائے کوتاہیاں دور کرنے کی زبانی ہدایات دیتی ہے تاکہ ماحول کی بہتری اور معمول کے تجارتی و ترقیاتی امور کسی زحمت کے بغیر جاری رہیں

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طبی کچرے کو عام کوڑا کرکٹ سے علیحدہ کرنے کے لیے تمام کے تمام مجوزہ حفاظتی اقدامات لینا ضروری ہیں بصورت دیگر دونوں اقسام کے کچروں کو علیحدہ کرنے کے عمل کے دوران ورکرز کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پھر عام کوڑا کرکٹ میں طبی کچرے کے نقصان دہ اثرات منتقل ہوسکتے ہیں جو اس کی رینج میں آنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں 

اسی طرح طبی کچرے کو ایک خاص درجہ حرارت میں اسٹور کرنا لازمی ہوتا ہے ورنہ اس کے مہلک اثرات ہوا میں شامل ہوکر آس پاس کے افراد میں ان کے عمل تنفس کے ذریعے داخل ہوکر خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں 

طبی کچرہ ہسپتال و دواخانوں سے نکلنے والے ایسے تمام کچرے کو کہتے ہیں جو مریضوں کے اندرونی و. بیرونی علاج معالجے و نگہداشت کے دوران نکلتا ہے 

سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول کی دفعہ 14 کے تحت ہر قسم کے مہلک, نقصان دہ اور ضرر رساں کچرے اور فضلے کو ذخیرہ کرنے, لانے لیجانے اور تلف کرنے کے لیے مجوزہ حفاظتی اقدامات لینا لازمی ہیں جبکہ کسی بھی مقصد کے لیے اس کے دوبارہ استعمال کی سختی سے ممانعت ہے بصورت دیگر یہ ماحولیاتی خلاف ورزی ہوگی جس پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جبکہ خلاف ورزی جاری رہنے پر  یومیہ بنیادوں پر مزید جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے
طبی فضلے کے ماحول دوست انتظام کے لیے حکومت سندھ نے تفصیلی حفاظتی اقدامت جاری کئے ہوئے ہیں جنہیں ہاسپٹل ویسٹ منیجمنٹ رولز 2014 کہتے ہیں جو ادارےکی ویب سائٹ پر شائع کئے جاچکے ہیں

ترجمان
محکمہ ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی
حکومت سندھ
Liaquat National Hospital asked to make its HWM safer
KARACHI: A team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) visited recently Liaquat National Hospital to monitor its hospital waste management (HWM) system and found that insufficient measures were being taken to comply with Hospital Waste Management (HWM) Rules 2014 to dispose of its medical waste. 

On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, apart from taking measures to control various types of environmental pollution, all small and big, private and public hospitals of the province are also being monitored regularly to make them comply with the concerned Sections of Sindh Environmental Protection Act 2014 (SEP Act 2014). 

The team of SEPA headed by its Additional DG Waqar Hussain Phulpoto asked the representative of the hospital Bashir Ahmed – who earlier briefed the team on their HWM procedure - to remove minor deficiencies found in their HWM system with particular reference to waste segregation and storage processes. 
The team observed that while segregating the infectious and hazardous waste from municipal waste authorized guidelines are not fully followed which ultimately puts the health of workers engaged in the subject task under risk. Also, team pointed out, municipal waste may be kept fully safe from the hazards of medical waste during segregation process to avoid likelihood of spread of harmful germs through it. 

SEPA team also observed that storage arrangements for medical waste before sending it to incineration are also deficient of certain measures to ensure control of its likely harmful effects on its surrounding environment. 
Hospital has been asked to submit details of its HWM procedure for its further scrutiny to ensure full compliance from all aspects of environmental regulations of the province. 

It may be pointed out that if any manufacturing or service providing unit which falls under the ambit of SEP Act 2014 is found having minor level of deficiencies while complying with authorized guidelines then instead of issuing on it any formal notice it is just verbally asked to address the issue pointed out by the regulator. 
Under Section 14 of SEP Act 2014 recycling, reuse and dumping of all types of hazardous and infectious waste is strictly prohibited while their handling, transportation and safe disposal must be done in compliance with authorized guidelines. Failing which violator may be penalized heavily and if violation continues then further penalty on per day basis may be imposed on it. 

For managing hospital waste safely, SEPA has already issued guidelines which are called Sindh Hospital Waste Management Rules 2014 which can be found at its website. 

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر کراچی کے مختلف مقامات پر دھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے.

اس ضمن میں ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ٹیم نے انجینئیر صدا بخش کی سربراہی میں آج سی ویو پر 24 گاڑیاں  چیک کیں

جن میں سے پانچ گاڑیوں کا زیادہ دھواں دینے پر ٹریفک پولیس کی مدد سے چالان کیا گیا

مجموعی طور پراس ماہ شہر کے مختلف مقامات پر اب تک کل 224 گاڑیاں چیک کی جاچکی ہیں

جن میں سے 62 گاڑیوں کا مقررہ حدود سے زائد دھواں دینے پر ٹریفک پولیس کے ذریعے چالان کیا گیا ہے

واضح رہے کہ ای پی اے سندھ اپنے محدود وسائل کے باوجود صوبے سے ہر قسم کی آلودگی کی روک تھام کے لیے کمر بستہ ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکے
 
فائیور اسٹار ہوٹلوں کو ماحولیاتی نوٹسز

کراچی:.ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ نے کراچی کے ضلع جنوبی میں واقع پانچ فائیو اسٹار ہوٹلز سمیت بارہ بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو ماحولیاتی نوٹسز جاری کردئیے ہیں

نوٹسز میں ہوٹلوں کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کوڑے کرکٹ و دیگر ٹھوس فالتو مواد کو ٹھکانے لگانے, تمام قسم کی تعمیر و تنصیب کے لیے ضروری ماحولیاتی منظوریوں, نکاسی آب کے بندوبست اور جنریٹرز سے نکلنے والے فضائی اخراج کے تجزیے کے بارے میں سیپا کو معلومات فراہم کریں.

مذکورہ ہوٹلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں مذکورہ امور سے واقف کوئی نمائندہ مقرر کریں جو سیپا کی ٹیم کو ہوٹل/ریسٹورنٹ کی ماحولیاتی نگرانی کے وقت رہنمائی کرسکے

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ صوبے میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے آلودگی کی روک تھام اور ماحول کی حفاظت ہقینی بنانے کی خاطر تمام نجی, سرکاری اور تجارتی اداروں سے ان کے ماحولیاتی امور کے بارے میں پوچھ سکتا ہے
کچرہ سمندر میں پھینکنے پر چار ذمہ دار اداروں کو ماحولیاتی نوٹس

ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے کراچی کی ساحلی پٹی سے نکلنے والا کچرہ سمندر برد کرنے پر چار ذمہ دار اداروں کو ماحولیاتی نوٹس دے دیا ہے

اس ضمن میں وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب بھی صوبے سے ہر قسم کی آلودگی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کرچکے ہیں.

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن, میونسپل کمیٹی ضلع جنوبی, سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو جاری کردہ علیحدہ علیحدہ نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں کچرہ پھینکنا سنگین ماحولیاتی خلاف ورزی ہے جس کی روک تھام انتہائی ضروری ہے
ان اداروں سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے فالتو مواد کو براہ راست سمندر میں ہرگز نہ پھینکا جائے جس کے باعث سمندری ماحول شدید متاثر ہوتا ہے

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت پورے صوبے میں زمینی ماحول کی حفاظت کی خاطر متعلقہ اداروں سے کچرے اور کوڑے کرکٹ کو ماحول دوست طریقوں سے ٹھکانے لگوانا سندھ ای پی اے کی ذمہ داری ہے جس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے

واضح رہے کہ کچرے اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ماحول دوست طریقہ لینڈفل سائٹ میں کچرہ ڈالنا کہلاتا ہے جبکہ کچرے سے دوبارہ قابل استعمال اشیاء نکالنے سے بھی کچرے کا بوجھ کم کیا جاسکتاہے
ماڑی پور میں کوئلے کے غیر قانونی ذخیروں کے خلاف کارروائی

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر کوئلے کے غیر قانونی ذخیرے کے خلاف ادارہ تحفظ ماحولیات نے کارروائی کرتے ہوئے کوئلہ مالکان کو فوری طور پر اپنے ذخائر مجازجگہوں پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں

سیپا کی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول کی سربراہی میں ماڑی پور میں دو ہزار کلو گرام کوئلے کے غیر قانونی ذخیرے پر چھاپہ مارا

یاد رہے کہ عدالت عظمی کی طرف سے کوئلہ غیر مجاز جگہوں پر ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہے

ذخیرہ کرنے والوں کو فوری طور پر اپنا کوئلہ مجاز جگہوں پر منتقل کرنے کی تحریری ہدایت کردی گئی ہے

واضح رہے کہ کوئلہ کھلے آسمان یا غیر مجاز جگہوں پر رکھنے سے ماحول اور انسانی صحت کو سخت نقصان ہوتا ہے

سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کی دفعہ 14 کے مطابق کسی بھی قسم کے خطرناک مواد کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنا اور لانا لیجانا ایک قابل سزا ماحولیاتی جرم ہے

SEPA serves notices on five-star hotels

KARACHI: Sindh Environmental Protection Agency has served notices on twelve hotels and restaurant including almost all five-star hotels situated in district South of the city.
SEPA asked them to submit details of their solid waste management, disposal of wastewater, environmental approvals and report of their generators emissions for review and further necessary action on them.
They were also informed that a team of SEPA will visit their establishment for the purpose of their environmental monitoring. They were also asked to nominate an appropriate official for further coordination with SEPA's team.
It may be mentioned that under Sindh Environmental Protection Act 2014 SEPA may ask any commercial or non-commercial entity to provide information regarding their environmental affairs to ensure their compliance with all mandatory environmental standards.
ضلع جنوبی کے 15 تعمیراتی منصوبوں کو ماحولیاتی خلاف ورزی پر نوٹس
کراچی:. حکومت سندھ کی ہدایات کے مطابق صوبے میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے کراچی کے ضلع جنوبی میں جاری پندرہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کو ماحولیاتی اجازت کے بغیر تعمیرات شروع کرنے پر نوٹسز جاری کردئیے ہیں

وہ تعمیراتی منصوبے جنہیں نوٹسز جاری کیے گئے شہر کے معروف بلڈرز نے شروع کر رکھے ہیں جن کی تعمیر شروع کرنے سے قبل ای پی اے سندھ سے ماحولیاتی اجازت لازمی لینی ہوتی ہے بصورت دیگر منصوبہ ماحولیاتی خلاف ورزی کا مرتکب کہلاتا ہے.

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات 2014 کی دفعہ 17 کے مطابق صوبے میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے سے قبل اس کی ماحولیاتی اجازت حاصل کرنی لازمی ہے بصورت دیگر کوئی بھی اپنا منصوبہ شروع نہیں کرسکتا

جبکہ مذکورہ قانون کی دفعہ 22 کے مطابق درج بالا دفعہ 17 کی خلاف ورزی پر پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے جو خلاف ورزی بدستور جاری رہنے پر ایک لاکھ روپیہ یومیہ مزید کیا جاسکتا ہے

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جوڑیا بازار سے 300 کلو گرام ممنوعہ شاپنگ بیگز ضبط

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ٹیم نے ڈائریکٹر عاشق لانگاھ کی سربراہی میں جوڑیا بازار میں پلاسٹک بیگز کے ہول سیلرز کی دکانوں پر چھاپے مارے اور 300 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز مقامی پولیس کی مدد سے ضبط کرلیے

بیرسٹر مرتضی وہاب نے پلاسٹک بیگز پر یکم اکتوبر سے لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے سیپا سے کہا ہے کہ ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کے خاتمے کے لیے پورے سندھ میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں-
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

سیپا نے سکھر میں مہلک کچرے کی بھاری مقدار ضبط کرلی
کراچی:وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات ، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ای پی اے سندھ کی ٹیم نے سکھر میں ہزاروں کلو گرام کچرے کے غیر قانونی ذخیرے پر پیر کے روز چھاپہ مارا
تفصیلات کے مطابق سکھر ساءٹ ایریا کے ایک گودام میں رکھے کچرے میں طبی, برقی, کیمیائی زہر اور استعمال شدہ جوتوں کا مہلک اور ماحول دشمن کچرہ پایا گیا ۔
طبی فضلے میں استعمال شدہ سرنجز, گلوکوز کی بوتلیں , جراحتی آلات اور ڈائیلیسس مشینوں سے نکلا کچرہ شامل تھا ۔ استعمال شدہ الیکٹرونکس کی اشیاء کا (برقی) کچرہ بھی بھاری مقدار میں ذخیرہ کیا گیا تھا ۔
کچرے کو مبینہ طور پر غیر قانونی ری سائیکلنگ کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا ۔ جبکہ ذخیرے کے ناکارہ کچرے کو غیر قانونی بھٹوں میں بطور ا یندھن سپلائی کیا جا نا تھا ۔
مقامی پولیس کی مدد سے ایڈیشنل ڈی جی وقار پھلپوٹو کی سربراہی میں سیپا کی ٹیم نے کچرے کو ضبط کرلیا جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ طبی فضلے کی کسی بھی مقصد کے لیے ری سائیکلنگ کی سخت ممانعت ہوتی ہے ۔ اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے سے لوگوں میں مہلک امراض پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے جبکہ برقی کچرے سے بھی قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔

جانوروں کی ہڈیوں سے بھاری مقدار میں تیل سازی بند کرادی گئی

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی ویاب کی ہدایات پر ای پی اے سندھ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئےجانوروں کی ہڈیوں سے خوردنی تیل بنانے کا کام ضلع ملیر سکھن تھانے کی حدود میں بند کرادیا 
تفصیلات کے مطابق کھلے آسمان تلے بھاری مقدار میں خوردنی تیل کسی مجاز ادارے کی اجازت کے بغیر بنایا جارہا تھا جہاں تیل کی ترسیل آئل ٹینکر میں کی جارہی تھی جس میں دو سے تین ہزار گیلن محلول آتا ہے
سیپا ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول کی قیادت میں موقع پر ہی تیل بنانے کی سرگرمی مقامی پولیس کی مدد سے بند کرادی
غیرقانونی سرگرمی سے علاقے میں شدید آلودگی پھیل رہی تھی جس سے لوگوں میں سانس , اعصاب اور جلد کے امراض پھیل رہے تھے

Illegal seteup of edible oil making in Malir closed down
KARACHI:.On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, a team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) closed down an illegal edible oil production setup where oil was being extracted from animal bones in huge amount in open area of the jurisdiction of Sukhan Police Station of District Malir.
At the time of raid by a SEPA team headed by Deputy Director Waris Gabol, oil was being poured in an oil tanker having storage capacity of 2000-3000 gallons to supply it in the city.

Owing to burning of un-recommended stuff as fuel, huge smoke was emitting from burning process causing air pollution in the surrounding area where people were suffering from various respiratory and lungs related diseases.

No permission from any authority was available with the setup to run the process of oil extracting from animal bones. 
SEPA team on the spot got the oil production activity stopped with the help of local police.

SEPA seizes huge amount of hazardous waste
KARACHI: On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, a team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) headed by its Additional DG Waqar Hussain Phulpoto seized hazardous waste in thousands of kilogram which was illegally stored in a warehouse in Site area of Sukkur city. 

According to details, an authorized team of SEPA raided the warehouse on Monday and found huge amount of hazardous waste including hospitals’ infectious waste, electronic waste, pesticide waste and used footwear products which were illegally stored in an open-sky warehouse. 

Hospitals’ infectious wastes included used syringes, glucose bottles, sharps, surgery equipment, plastic bottles, refuse of dialysis machines etc which was reportedly to be used for recycling to eventually manufacture low-cost plastic and other items including feeders for sale to poor communities. 
The electronic waste found in the heaps was of parts and wholes of used computers, printers, laptops, cellular phones and their accessories which is quite harmful for natural environment. 
The pesticide waste found in the stockpiles of waste is also very harmful for the fertility of soil and must be scientifically disposed of by neutralizing its hazardous effects. 

The used leathers products which were found in huge quantity were reportedly to be supplied as fuel to illegal batteries and brick kilns and is treated as most polluting fuel and its burning is strictly prohibited in the province. 

Under Section 12 and 13 of Sindh Environmental Protection Act 2014 the handling, import and unsafe storage and transportation of all types of hazardous waste is strictly prohibited and is a punishable offence. 
The team of SEPA with the help of local police has taken into its custody the entire waste in the warehouse by recording its inventory. Necessary legal action will also be initiated against those who illegally stored the hazardous waste. 
Photo caption: A team of Sindh EPA seized hazardous waste in thousands of kilogram which was illegally stored in a warehouse in Sukkur’s site area.
 
SEPA closes down illegal factory of oil 
KARACHI: In compliance with the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Department, Barrister Murtuza Wahab a team of Sindh Environmental Protection Agency conducted an inspection of an oil factory in Port Qasim reportedly extracting oil from animals’ offal and limbs. 
The team headed by Director Karachi Regional Office Dr Ashique Ali Langah and comprising of Deputy Director Waris Gabol and other officials found the factory extracting oil from various residue parts of slaughtered animals without any authorization. 
Moreover, factory situated behind Lucky Coal Power Plant was also found emitting dark smoke in huge amount which was polluting the area causing air-pollution-related diseases in communities living around the area. 

People on the spot informed the SEPA team that edible oil being produced in the factory was supplied to various markets of Karachi. 
It may be pointed out that SEPA is authorized under various sections of Sindh Environmental Protection Act 2014 to inspect and monitor any establishment which reportedly create any hazard to environment and may also order its closure if it pollutes the environment above permissible limits. 
 
سیپا نے آلودگی پھیلانے والے سو سے زائد اینٹوں کے غیر قانونی بھٹے بند کرادئیے
کراچی:.ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (سیپا)نے وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر خدا کی بستی کے یوسف بروہی گوٹھ میں واقع سو سے زائد اینٹوں کے غیر قانونی بھٹے بند کرادئیے
تفصیلات کے مطابق سیپا کی ایک ٹیکنیکل ٹیم نے ڈائریکٹر ریجنل آفس سیپا کراچی ڈاکٹر عاشق علی لانگاھ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل وارث گبول کی سربراہی میں مقامی پولیس کی مدد سے خطرناک فضائی آلودگی پھیلانے کے مرتکب غیر قانونی طور پر قائم شدہ خوردہ سطح پر کام کرنے والے مذکورہ تمام بھٹوں کو موقع پر ہی بند کرادیابھٹے استعمال شدہ ٹائروں کے ٹکڑے اور کپڑے بطور ایندھن استعمال کررہے تھے جس کے باعث اطراف کے رہائشی علاقوں میں شدید فضائی آلودگی پھیل رہی تھی جس کی وجہ سے علاقہ مکین تنفس, قلب اور جلد کے سنگین طبی مسائل کا شکار ہورہے تھے
واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کی رو سے مقررہ حدود سے زائد ہر قسم کا فضائی اخراج قابل سزا جرم ہے جس کی روک تھام کے لیے سیپا کو مقررہ حد سے زائد فضائی آلودگی پھیلانے کی مرتکب  کاروباری سرگرمیوں کو بند کرانے کا اختیار حاصل ہے
SEPA got above 100 illegal kilns closed

KARACHI: Sindh Environmental Protection Agency has got more than 100 illegally operating small-scale brick kilns closed on Monday here.

According to details, on the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab a tachnical team of SEPA with the help of local police stopped them functioning which were situated in Yousuf Brohi Goth in Khuda Ki Basti.
SEPA team headed by Director Regional Office Karachi Dr Aashiq Ali Langah and Deputy Director Waris Gabol found all the illegal brick kilns burning used tyres' pieces and clothes as fuel causing massive air emission in surrounding area. 
As a result, residents were suffering from severe health problems related to respiration, heart and skin. Therefore police got them closed on the spot.

It may be pointed out that under Sindh Environmental Protection Act 2014 causing air emissions beyond permissble limit is a punishable offence. SEPA has authority to get such polluting activities closed which are injurious to environment.
پلاسٹک بیگز پر پابندی کامیاب بنانے میں عوام حکومت کاساتھ دیں: مرتضی وہاب

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ناقابل تلف پلاسٹک بیگز پر لگائی گئی پابندی میں حکومت کا ساتھ دیں

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی پابندی جو خوردہ سطح پر بھی لگائی گئی ہو اس کی کامیابی عوامی تعاون اور حمایت کے بغیر کافی دیر میں حاصل ہوتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ تھوک کی سطح پر تو ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کی تیاری اور رسد کو پلاسٹک سازوں کی حمایت سے ختم کردیا گیا ہے جبکہ وہ صوبے جہاں مذکورہ پابندی نہیں ہے وہاں سے ممنوعہ پلاسٹک بیگز کی صوبے میں آمد روکنے کے لیے بھی اقدامات لیے جارہے ہیں 
تاہم گھریلو سطح پر ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کی تیاری اور رسد روکنے کے لیے عوام ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کی بھی روک تھام کی جاسکے

مشیر ماحولیات نے کہا کہ عوام ایسےپلاسٹک بیگ میں کوئی چیز نہ خریدیں جو بہت پتلی ہوں اور بہ آسانی جن کے آر پار دیکھا جاسکتا ہو  بلکہ دکاندار سے اصرار کریں کہ وہ قابل تلف یعنی موٹے پلاسٹک بیگ میں آپ کو آپ کا مطلوبہ سودا دے جس کا وہ پابند ہے
انہوں نے تاجر و دکاندار حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ عارضی فائدہ اور سہولت نہ دیکھیں بلکہ کچھ عرصے بعد ممکنہ اس نقصان کو دیکھیں جو ممنوعہ  پلاسٹک بیگز سے زمین کی زرخیزی کم ہونے پر ہر قسم کے خام مال کی قیمتیں بڑھ جانے کی صورت میں انہیں ہوسکتا ہے

 
 
pacing: 0px; -webkit-text-stroke-width: 0px; background-color: rgb(255, 255, 255); text-decoration-style: initial; text-decoration-color: initial;">
مجموعی طور پراس ماہ شہر کے مختلف مقامات پر اب تک کل 224 گاڑیاں چیک کی جاچکی ہیں

جن میں سے 62 گاڑیوں کا مقررہ حدود سے زائد دھواں دینے پر ٹریفک پولیس کے ذریعے چالان کیا گیا ہے

واضح رہے کہ ای پی اے سندھ اپنے محدود وسائل کے باوجود صوبے سے ہر قسم کی آلودگی کی روک تھام کے لیے کمر بستہ ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکے
  فائیور اسٹار ہوٹلوں کو ماحولیاتی نوٹسز

کراچی:.ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ نے کراچی کے ضلع جنوبی میں واقع پانچ فائیو اسٹار ہوٹلز سمیت بارہ بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو ماحولیاتی نوٹسز جاری کردئیے ہیں

نوٹسز میں ہوٹلوں کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کوڑے کرکٹ و دیگر ٹھوس فالتو مواد کو ٹھکانے لگانے, تمام قسم کی تعمیر و تنصیب کے لیے ضروری ماحولیاتی منظوریوں, نکاسی آب کے بندوبست اور جنریٹرز سے نکلنے والے فضائی اخراج کے تجزیے کے بارے میں سیپا کو معلومات فراہم کریں.

مذکورہ ہوٹلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں مذکورہ امور سے واقف کوئی نمائندہ مقرر کریں جو سیپا کی ٹیم کو ہوٹل/ریسٹورنٹ کی ماحولیاتی نگرانی کے وقت رہنمائی کرسکے

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ صوبے میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے آلودگی کی روک تھام اور ماحول کی حفاظت ہقینی بنانے کی خاطر تمام نجی, سرکاری اور تجارتی اداروں سے ان کے ماحولیاتی امور کے بارے میں پوچھ سکتا ہے
کچرہ سمندر میں پھینکنے پر چار ذمہ دار اداروں کو ماحولیاتی نوٹس

ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے کراچی کی ساحلی پٹی سے نکلنے والا کچرہ سمندر برد کرنے پر چار ذمہ دار اداروں کو ماحولیاتی نوٹس دے دیا ہے

اس ضمن میں وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب بھی صوبے سے ہر قسم کی آلودگی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کرچکے ہیں.

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن, میونسپل کمیٹی ضلع جنوبی, سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو جاری کردہ علیحدہ علیحدہ نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں کچرہ پھینکنا سنگین ماحولیاتی خلاف ورزی ہے جس کی روک تھام انتہائی ضروری ہے
ان اداروں سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے فالتو مواد کو براہ راست سمندر میں ہرگز نہ پھینکا جائے جس کے باعث سمندری ماحول شدید متاثر ہوتا ہے

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت پورے صوبے میں زمینی ماحول کی حفاظت کی خاطر متعلقہ اداروں سے کچرے اور کوڑے کرکٹ کو ماحول دوست طریقوں سے ٹھکانے لگوانا سندھ ای پی اے کی ذمہ داری ہے جس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے

واضح رہے کہ کچرے اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ماحول دوست طریقہ لینڈفل سائٹ میں کچرہ ڈالنا کہلاتا ہے جبکہ کچرے سے دوبارہ قابل استعمال اشیاء نکالنے سے بھی کچرے کا بوجھ کم کیا جاسکتاہے ماڑی پور میں کوئلے کے غیر قانونی ذخیروں کے خلاف کارروائی

کراچی:.وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر کوئلے کے غیر قانونی ذخیرے کے خلاف ادارہ تحفظ ماحولیات نے کارروائی کرتے ہوئے کوئلہ مالکان کو فوری طور پر اپنے ذخائر مجازجگہوں پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں

سیپا کی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول کی سربراہی میں ماڑی پور میں دو ہزار کلو گرام کوئلے کے غیر قانونی ذخیرے پر چھاپہ مارا

یاد رہے کہ عدالت عظمی کی طرف سے کوئلہ غیر مجاز جگہوں پر ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہے

ذخیرہ کرنے والوں کو فوری طور پر اپنا کوئلہ مجاز جگہوں پر منتقل کرنے کی تحریری ہدایت کردی گئی ہے

واضح رہے کہ کوئلہ کھلے آسمان یا غیر مجاز جگہوں پر رکھنے سے ماحول اور انسانی صحت کو سخت نقصان ہوتا ہے

سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کی دفعہ 14 کے مطابق کسی بھی قسم کے خطرناک مواد کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنا اور لانا لیجانا ایک قابل سزا ماحولیاتی جرم ہے

SEPA serves notices on five-star hotels

KARACHI: Sindh Environmental Protection Agency has served notices on twelve hotels and restaurant including almost all five-star hotels situated in district South of the city.
SEPA asked them to submit details of their solid waste management, disposal of wastewater, environmental approvals and report of their generators emissions for review and further necessary action on them.
They were also informed that a team of SEPA will visit their establishment for the purpose of their environmental monitoring. They were also asked to nominate an appropriate official for further coordination with SEPA's team.
It may be mentioned that under Sindh Environmental Protection Act 2014 SEPA may ask any commercial or non-commercial entity to provide information regarding their environmental affairs to ensure their compliance with all mandatory environmental standards.
ضلع جنوبی کے 15 تعمیراتی منصوبوں کو ماحولیاتی خلاف ورزی پر نوٹس
کراچی:. حکومت سندھ کی ہدایات کے مطابق صوبے میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے کراچی کے ضلع جنوبی میں جاری پندرہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کو ماحولیاتی اجازت کے بغیر تعمیرات شروع کرنے پر نوٹسز جاری کردئیے ہیں

وہ تعمیراتی منصوبے جنہیں نوٹسز جاری کیے گئے شہر کے معروف بلڈرز نے شروع کر رکھے ہیں جن کی تعمیر شروع کرنے سے قبل ای پی اے سندھ سے ماحولیاتی اجازت لازمی لینی ہوتی ہے بصورت دیگر منصوبہ ماحولیاتی خلاف ورزی کا مرتکب کہلاتا ہے.

واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات 2014 کی دفعہ 17 کے مطابق صوبے میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے سے قبل اس کی ماحولیاتی اجازت حاصل کرنی لازمی ہے بصورت دیگر کوئی بھی اپنا منصوبہ شروع نہیں کرسکتا

جبکہ مذکورہ قانون کی دفعہ 22 کے مطابق درج بالا دفعہ 17 کی خلاف ورزی پر پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے جو خلاف ورزی بدستور جاری رہنے پر ایک لاکھ روپیہ یومیہ مزید کیا جاسکتا ہے

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جوڑیا بازار سے 300 کلو گرام ممنوعہ شاپنگ بیگز ضبط

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ٹیم نے ڈائریکٹر عاشق لانگاھ کی سربراہی میں جوڑیا بازار میں پلاسٹک بیگز کے ہول سیلرز کی دکانوں پر چھاپے مارے اور 300 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز مقامی پولیس کی مدد سے ضبط کرلیے

بیرسٹر مرتضی وہاب نے پلاسٹک بیگز پر یکم اکتوبر سے لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے سیپا سے کہا ہے کہ ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کے خاتمے کے لیے پورے سندھ میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں-
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

سیپا نے سکھر میں مہلک کچرے کی بھاری مقدار ضبط کرلی
کراچی:وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات ، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ای پی اے سندھ کی ٹیم نے سکھر میں ہزاروں کلو گرام کچرے کے غیر قانونی ذخیرے پر پیر کے روز چھاپہ مارا
تفصیلات کے مطابق سکھر ساءٹ ایریا کے ایک گودام میں رکھے کچرے میں طبی, برقی, کیمیائی زہر اور استعمال شدہ جوتوں کا مہلک اور ماحول دشمن کچرہ پایا گیا ۔
طبی فضلے میں استعمال شدہ سرنجز, گلوکوز کی بوتلیں , جراحتی آلات اور ڈائیلیسس مشینوں سے نکلا کچرہ شامل تھا ۔ استعمال شدہ الیکٹرونکس کی اشیاء کا (برقی) کچرہ بھی بھاری مقدار میں ذخیرہ کیا گیا تھا ۔
کچرے کو مبینہ طور پر غیر قانونی ری سائیکلنگ کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا ۔ جبکہ ذخیرے کے ناکارہ کچرے کو غیر قانونی بھٹوں میں بطور ا یندھن سپلائی کیا جا نا تھا ۔
مقامی پولیس کی مدد سے ایڈیشنل ڈی جی وقار پھلپوٹو کی سربراہی میں سیپا کی ٹیم نے کچرے کو ضبط کرلیا جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ طبی فضلے کی کسی بھی مقصد کے لیے ری سائیکلنگ کی سخت ممانعت ہوتی ہے ۔ اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے سے لوگوں میں مہلک امراض پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے جبکہ برقی کچرے سے بھی قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔

جانوروں کی ہڈیوں سے بھاری مقدار میں تیل سازی بند کرادی گئی

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی ویاب کی ہدایات پر ای پی اے سندھ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئےجانوروں کی ہڈیوں سے خوردنی تیل بنانے کا کام ضلع ملیر سکھن تھانے کی حدود میں بند کرادیا 
تفصیلات کے مطابق کھلے آسمان تلے بھاری مقدار میں خوردنی تیل کسی مجاز ادارے کی اجازت کے بغیر بنایا جارہا تھا جہاں تیل کی ترسیل آئل ٹینکر میں کی جارہی تھی جس میں دو سے تین ہزار گیلن محلول آتا ہے
سیپا ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول کی قیادت میں موقع پر ہی تیل بنانے کی سرگرمی مقامی پولیس کی مدد سے بند کرادی
غیرقانونی سرگرمی سے علاقے میں شدید آلودگی پھیل رہی تھی جس سے لوگوں میں سانس , اعصاب اور جلد کے امراض پھیل رہے تھے

Illegal seteup of edible oil making in Malir closed down
KARACHI:.On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, a team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) closed down an illegal edible oil production setup where oil was being extracted from animal bones in huge amount in open area of the jurisdiction of Sukhan Police Station of District Malir.
At the time of raid by a SEPA team headed by Deputy Director Waris Gabol, oil was being poured in an oil tanker having storage capacity of 2000-3000 gallons to supply it in the city.

Owing to burning of un-recommended stuff as fuel, huge smoke was emitting from burning process causing air pollution in the surrounding area where people were suffering from various respiratory and lungs related diseases.

No permission from any authority was available with the setup to run the process of oil extracting from animal bones. 
SEPA team on the spot got the oil production activity stopped with the help of local police.

SEPA seizes huge amount of hazardous waste
KARACHI: On the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab, a team of Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) headed by its Additional DG Waqar Hussain Phulpoto seized hazardous waste in thousands of kilogram which was illegally stored in a warehouse in Site area of Sukkur city. 

According to details, an authorized team of SEPA raided the warehouse on Monday and found huge amount of hazardous waste including hospitals’ infectious waste, electronic waste, pesticide waste and used footwear products which were illegally stored in an open-sky warehouse. 

Hospitals’ infectious wastes included used syringes, glucose bottles, sharps, surgery equipment, plastic bottles, refuse of dialysis machines etc which was reportedly to be used for recycling to eventually manufacture low-cost plastic and other items including feeders for sale to poor communities. 
The electronic waste found in the heaps was of parts and wholes of used computers, printers, laptops, cellular phones and their accessories which is quite harmful for natural environment. 
The pesticide waste found in the stockpiles of waste is also very harmful for the fertility of soil and must be scientifically disposed of by neutralizing its hazardous effects. 

The used leathers products which were found in huge quantity were reportedly to be supplied as fuel to illegal batteries and brick kilns and is treated as most polluting fuel and its burning is strictly prohibited in the province. 

Under Section 12 and 13 of Sindh Environmental Protection Act 2014 the handling, import and unsafe storage and transportation of all types of hazardous waste is strictly prohibited and is a punishable offence. 
The team of SEPA with the help of local police has taken into its custody the entire waste in the warehouse by recording its inventory. Necessary legal action will also be initiated against those who illegally stored the hazardous waste. 
Photo caption: A team of Sindh EPA seized hazardous waste in thousands of kilogram which was illegally stored in a warehouse in Sukkur’s site area.
 
SEPA closes down illegal factory of oil 
KARACHI: In compliance with the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Department, Barrister Murtuza Wahab a team of Sindh Environmental Protection Agency conducted an inspection of an oil factory in Port Qasim reportedly extracting oil from animals’ offal and limbs. 
The team headed by Director Karachi Regional Office Dr Ashique Ali Langah and comprising of Deputy Director Waris Gabol and other officials found the factory extracting oil from various residue parts of slaughtered animals without any authorization. 
Moreover, factory situated behind Lucky Coal Power Plant was also found emitting dark smoke in huge amount which was polluting the area causing air-pollution-related diseases in communities living around the area. 

People on the spot informed the SEPA team that edible oil being produced in the factory was supplied to various markets of Karachi. 
It may be pointed out that SEPA is authorized under various sections of Sindh Environmental Protection Act 2014 to inspect and monitor any establishment which reportedly create any hazard to environment and may also order its closure if it pollutes the environment above permissible limits. 
 
سیپا نے آلودگی پھیلانے والے سو سے زائد اینٹوں کے غیر قانونی بھٹے بند کرادئیے
کراچی:.ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (سیپا)نے وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر خدا کی بستی کے یوسف بروہی گوٹھ میں واقع سو سے زائد اینٹوں کے غیر قانونی بھٹے بند کرادئیے
تفصیلات کے مطابق سیپا کی ایک ٹیکنیکل ٹیم نے ڈائریکٹر ریجنل آفس سیپا کراچی ڈاکٹر عاشق علی لانگاھ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل وارث گبول کی سربراہی میں مقامی پولیس کی مدد سے خطرناک فضائی آلودگی پھیلانے کے مرتکب غیر قانونی طور پر قائم شدہ خوردہ سطح پر کام کرنے والے مذکورہ تمام بھٹوں کو موقع پر ہی بند کرادیابھٹے استعمال شدہ ٹائروں کے ٹکڑے اور کپڑے بطور ایندھن استعمال کررہے تھے جس کے باعث اطراف کے رہائشی علاقوں میں شدید فضائی آلودگی پھیل رہی تھی جس کی وجہ سے علاقہ مکین تنفس, قلب اور جلد کے سنگین طبی مسائل کا شکار ہورہے تھے
واضح رہے کہ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کی رو سے مقررہ حدود سے زائد ہر قسم کا فضائی اخراج قابل سزا جرم ہے جس کی روک تھام کے لیے سیپا کو مقررہ حد سے زائد فضائی آلودگی پھیلانے کی مرتکب  کاروباری سرگرمیوں کو بند کرانے کا اختیار حاصل ہے
SEPA got above 100 illegal kilns closed

KARACHI: Sindh Environmental Protection Agency has got more than 100 illegally operating small-scale brick kilns closed on Monday here.

According to details, on the directives of Advisor to CM Sindh on Law, Environment, Climate Change and Coastal Development Barrister Murtuza Wahab a tachnical team of SEPA with the help of local police stopped them functioning which were situated in Yousuf Brohi Goth in Khuda Ki Basti.
SEPA team headed by Director Regional Office Karachi Dr Aashiq Ali Langah and Deputy Director Waris Gabol found all the illegal brick kilns burning used tyres' pieces and clothes as fuel causing massive air emission in surrounding area. 
As a result, residents were suffering from severe health problems related to respiration, heart and skin. Therefore police got them closed on the spot.

It may be pointed out that under Sindh Environmental Protection Act 2014 causing air emissions beyond permissble limit is a punishable offence. SEPA has authority to get such polluting activities closed which are injurious to environment.
پلاسٹک بیگز پر پابندی کامیاب بنانے میں عوام حکومت کاساتھ دیں: مرتضی وہاب

کراچی: وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون, ماحولیات, موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ناقابل تلف پلاسٹک بیگز پر لگائی گئی پابندی میں حکومت کا ساتھ دیں

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی پابندی جو خوردہ سطح پر بھی لگائی گئی ہو اس کی کامیابی عوامی تعاون اور حمایت کے بغیر کافی دیر میں حاصل ہوتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ تھوک کی سطح پر تو ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کی تیاری اور رسد کو پلاسٹک سازوں کی حمایت سے ختم کردیا گیا ہے جبکہ وہ صوبے جہاں مذکورہ پابندی نہیں ہے وہاں سے ممنوعہ پلاسٹک بیگز کی صوبے میں آمد روکنے کے لیے بھی اقدامات لیے جارہے ہیں 
تاہم گھریلو سطح پر ناقابل تلف پلاسٹک بیگز کی تیاری اور رسد روکنے کے لیے عوام ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کی بھی روک تھام کی جاسکے

مشیر ماحولیات نے کہا کہ عوام ایسےپلاسٹک بیگ میں کوئی چیز نہ خریدیں جو بہت پتلی ہوں اور بہ آسانی جن کے آر پار دیکھا جاسکتا ہو  بلکہ دکاندار سے اصرار کریں کہ وہ قابل تلف یعنی موٹے پلاسٹک بیگ میں آپ کو آپ کا مطلوبہ سودا دے جس کا وہ پابند ہے
انہوں نے تاجر و دکاندار حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ عارضی فائدہ اور سہولت نہ دیکھیں بلکہ کچھ عرصے بعد ممکنہ اس نقصان کو دیکھیں جو ممنوعہ  پلاسٹک بیگز سے زمین کی زرخیزی کم ہونے پر ہر قسم کے خام مال کی قیمتیں بڑھ جانے کی صورت میں انہیں ہوسکتا ہے